.

لیبیا کی فوجی کمیٹیوں کا جنگ بندی معاہدہ خوش آئند ہے: سعودی عرب

متحارب فریقوں کا اقوام متحدہ کی نگرانی میں "مستقل جنگ بندی کا معاہدہ "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مملکت کی قیادت اقوام متحدہ کی نگرانی میں لیبیا کی مشترکہ فوجی کمیٹیوں کی جانب سے ملک میں مستقل جنگ بندی کے معاہدہ کو خوش آئند قرار دیتی ہے۔

وزارت کے مطابق مملکت امید کرتی ہے کہ جنگ بندی معاہدہ آگے چل کر سیاسی اور اقتصادی دھاروں کی کامیابی کا باعث بنے گا۔ جنگ بندی معاہدے کو لیبیا کی حکومت اور عوام کی سلامتی، امن، استحکام اور خود مختاری کی نئی راہیں کھولے گا۔

قبل ازیں لیبیا کے تمام متحارب فریقوں نے "ملک کے تمام علاقوں میں مستقل جنگ بندی کے لیے" معاہدے پر دستخط کیے۔ اس امر کا اعلان لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن نے جمعہ کے روز ایک فیس بک پوسٹ میں کیا گیا۔

’’جنیوا میں 5 + 5 ارکان پر مشتمل مشترکہ فوجی کمیٹیوں کے مذاکرات لیبیا میں مستقل طور پر جنگ بندی کے معاہدے کی صورت میں اختتام پذیر ہو رہے ہیں۔ یہ کامیابی لیبیا میں امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے۔‘‘

جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیبیا میں اقوام متحدہ کی ایلچی اسٹیفنی ٹرکو ولیمز نے کہا کہ "مستقل جنگ بندی معاہدے کا راستہ کٹھن اور طویل تھا، تاہم وعدوں کو روبعمل لانے کی خاطر آنے والے ہفتوں میں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔‘‘

اسٹیفنی ٹرکو نے امید ظاہر کی ’’کہ یہ معاہدہ لیبیا کے عوام کی مشکلات ختم کرنے اور تنازع کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں میں واپس لوٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘‘ ولیمز نے مزید کہا ’’کہ کرائے کے سب فوجی اور غیر ملکی جنگجو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندر لیبیا سے چلے جائیں۔‘‘

ملک کی متحارب جماعتوں کے مابین ہونے والی بات چیت کے بعد جمعہ کے روز پہلی بار ایک کمرشل پرواز نے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے مشرقی شہر بن غازی کے لئے اڑان بھری ۔

خلیفہ حفتر کی خود ساختہ نیشنل آرمی (ایل این اے) کی طرف سے طرابلس کے معیتیقہ ہوائی اڈے کو 2019 میں نشانہ بنانے کے بعد وہاں سے کمرشل پروازوں کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا۔

جی این اے کے نام سے جانی جانے والی قومی حکومت کا پایہ تخت طرابلس تھا، جس نے جون کے مہینے میں خفتر کی فوج کو طرابلس سے باہر دھکیل دیا تھا۔