.

متنازع ریاست جموں و کشمیرمیں جھڑپ، چاربھارتی فوجی اور تین حرّیت پسند مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر میں شدید لڑائی کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک اور تین حرّیت پسند جنگجو مارے گئے ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان راجیش کالیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کے ضلع کپواڑا میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایک بجے لڑائی شروع ہوئی تھی۔بھارتی فوجیوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے درمیان حدِمتارکہ جنگ (سیزفائرلائن) سے کوئی ساڑھے تین کلومیٹر دور واقع علاقہ میں باغی جنگجوؤں کو روکا تھا اور پھر ان کے درمیان فائرنگ کاتبادلہ شروع ہوگیا تھا۔

مسٹر کالیا کا کہنا تھا کہ فوجیوں اور باغیوں کے درمیان تین گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا تھا۔اس میں ایک فوجی اور ایک باغی مارا گیا تھا۔اس کے بعد مزید فوجی کمک کے طور پر علاقے میں بھیج دیے گئے تھے۔

متحارب فورسز میں کئی گھنٹے کے وقفے کے بعد دن کے وقت دوبارہ لڑائی چھڑ گئی تھی۔اس میں مزید تین بھارتی ہلاک اور دوزخمی ہوگئے جبکہ دو مزید مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی۔ بھارت کے اس اقدام کے بعد سے پوری مقبوضہ وادیِ کشمیر میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔کشمیری بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔بھارتی حکام نے کشمیریوں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کررکھا ہے اور ان کے انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔