.

جرمنی : مسلمانوں کو قتل اور مساجد پرحملوں کی سازش کے الزام میں 12 افراد پر فردِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں پراسیکیوٹرز نے بارہ مشتبہ افراد پر مساجد پر مسلح حملوں اور مسلمانوں کو بڑی تعداد میں قتل یا زخمی کرنے کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے۔

پراسیکیوٹرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ افراد مساجد پر حملوں میں مسلمانوں کو قتل یا زخمی کرکے ملک میں خانہ جنگی ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتے تھے۔‘‘

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس گینگ کے گیارہ ارکان ہیں اور ان کا ایک ساتھی ہے۔ یہ حملوں کی سازش کے تانے بانے بننے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے۔ان میں سے ایک نے ہتھیار خرید کرنے کے لیے مقرر کردہ 50 ہزار یورو(59 ڈالر) میں سے ہزاروں یورو دینے کا وعدہ کیا تھا۔

جرمنی کے جنوب مشرقی شہر اسٹٹ گارٹ میں پراسیکیوٹرزکا کہنا ہے کہ یہ تمام مشتبہ افراد جرمن شہری ہیں، ان میں سے گیارہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور صرف ایک مفرور ہے۔ایک مشتبہ ملزم دوران حراست مر گیا تھا لیکن فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اس کی کن حالات میں موت واقع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ جرمنی میں حالیہ برسوں کے دوران میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے اقلیتوں یا ان کے حامیوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔2018ء میں جرمنی کے انتہا پسند زیر زمین گروپ نیشنل سوشلسٹ گروپ کے ارکان پر ترک نسل کے افراد کے قتل کے الزامات میں فرد جرم عاید کی تھی۔اس گروپ کے مسلح ارکان نے کوئی ایک عشرے تک ترک نسل کے افراد پر حملے جاری رکھے تھے۔ گذشتہ سال دائیں بازو کے ایک مسلح انتہا پسند نے مشرقی جرمنی میں ایک صومعہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو راہگیر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس وقت دائیں بازو کے ہمدرد ایک مشتبہ ملزم کے خلاف قدامت پسند سیاست دان والٹرلیوبک کے قتل کے جرم میں مقدمہ چلا جارہا ہے۔مقتول لیوبک جرمن چانسلر اینجیلا میرکل کے زبردست حامی تھے۔انھوں نے 2015ء میں مہاجرین کے بحران کے وقت ان کی مکمل مدد وحمایت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا ملک میں خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ جرمن پولیس اور مسلح افواج میں بھی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ہمدرد موجود ہیں اور ان میں سے متعدد بے نقاب کیے جا چکے ہیں۔