.

اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتے ہیں: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت پر اکسانے کی تمام کوششیں قابل مذمت ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی' کے 47 ویں وزرا خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسلام اور دہشت گردی کو آپس میں جوڑنے کی ہر کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام خود اس وقت دہشت گردی کا شکار ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں کھڑا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ یمن کے حوثی دہشت گردوں کی طرف سے مملکت پر سیکڑوں بیلسٹک میزائل اور بمبار ڈرون حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ایک دہشت گرد گروپ ہے جو ایران کے اشاروں پر یمن میں تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

درایں اثنا 'او آئی سی' کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کہا ہے کہ دہشت گردی عصر حاضر کا کینسر ہے اور اسے جواز دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔

وزرا خارجہ اجلاس سے خطاب میں العثیمین نے کہا کہ ہم اسلام مخالف بیانیے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسلام اور دہشت گردی کو آپس میں جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اسلامو فوبیا کی مکروہ مہم بین الاقوامی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔