طلاق خوش خبری نہیں ہوتی ہے: یورپی یونین کے رکن ممالک کا بریگزٹ پر ردّ عمل
یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان جمعرات کے روز تجارتی معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط اور عمل درامد کے لیے یورپی یونین پیر کے روز مطلوبہ اقدامات کا آغاز کرے گی۔ اس پیش کش کو یورپی یونین کے سینئر مذاکرات کار میشیل بارنے نے جمعے کے روز رکن ممالک کے سامنے پیش کیا تھا۔
ایک یورپی سفارت کار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "سمجھوتے کے غیر حتمی مسودے پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کا ردّ عمل نارمل تھا۔ اس حوالے سے کوئی بڑی مسرت نہیں تھی کیوں کہ بہرکیف طلاق (علاحدگی) کوئی خوش خبری نہیں ہے"۔
سفارت کار نے واضح کیا کہ 1200 صفحات پر مشتمل معاہدے کا پیر کے روز تک باریک بینی سے جائزہ لے لیا جائے گا۔
یورپی یونین کے سفیر پیر کے روز ایک بار پھر اکٹھا ہوں گے تا کہ معاہدے پر رکن ممالک کے دستخط کے اقدامات شروع کیے جا سکیں۔ بعد ازاں اسے یورپی یونین میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
رکن ممالک معاہدے کے متن کی منظوری دے کر منگل یا بدھ کے روز اس پر دستخط کریں گے تا کہ معاہدے کو جمعرات کے روز یورپی یونین کے سرکاری جریدے میں شائع کیا جا سکے۔ اس طرح معاہدہ یکم جنوری 2021ء سے نافذ العمل ہو جائے گا۔
یورپی یونین کے رکن ممالک عارضی طور پر دو ماہ کے لیے اس معاہدے پر عمل درامد کے حوالے سے آمادہ ہو سکتے ہیں تا کہ سرکاری طور پر معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
-
برطانیہ کا یورپی یونین سے ’’بریگزٹ‘‘ کے لیے تجارتی معاہدہ طے
برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کے لیے تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے ۔اس طرح اس کی ...
بين الاقوامى -
'بریگزٹ' کے سینیر یورپی مذاکرات کار کرونا وائرس کا شکار
برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے عمل'بریگزٹ' کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب ...
بين الاقوامى -
برطانوی عوام بریگزٹ پر بگ بین کی آواز سننے کے واسطے 6.5 لاکھ ڈالر ادا کریں گے
آج سے دو ہفتے بعد 31 جنوری کی شب جب گھڑی 12 بجائے گی تو اس کے ایک سیکنڈ بعد ہی ...
بين الاقوامى