.

'فیس بک' نے ایران کے انگریزی چینل کا اکاونٹ بلاک کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطوں‌کی ویب سائٹ 'فیس بک' نے منگل کے روز اپنے پلیٹ فارمز پر ایران کے سرکاری انگریزی زبان کے ٹی وی' پریس ٹی وی' کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔

چینل نے ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ فیس بک نے بغیر کسی انتباہ یا وضاحت کے اپنے پلیٹ فارم پر چینل کا اکاؤنٹ حذف کر دیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر نے کرونا ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پر مشتمل پوسٹ شیئر کرنے کی وجہ سے انگریزی میں ایرانی رہ نما علی خامنہ ای کا اکاؤنٹ بند کر دیا۔

خامنہ ای نے جمعہ کو ایک پوسٹ‌ میں کہا تھا کہ ان کا ملک امریکی اور برطانوی ویکسینیں درآمد نہیں کرے گا کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں تیار کی جانے والی ویکسینوں کی درآمد ممنوع ہے۔ وہ مکمل طور پر ناقابل اعتماد ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کی ویکسینیں دوسری اقوام کے لوگوں‌کو نقصان پہنچانے کے لیے تیار کی جائیں۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ ایڈز سے آلودہ فرانسیسی ویکسین بھی ناقابل اعتماد ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں سے وابستہ کمپنیوں نے ایرانی حکومت کی متعدد شخصیات ، ایجنسیوں اور چینلز کے اکاؤنٹس اور صفحات کو مسدود کیا۔ ان صفحات کو جعلی مہمات چلانے، غلط معلومات پھیلانے یا سیاسی نظربندوں کے جبری اعترافات نشر کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

ایران کے انگریزی زبان کے پریس ٹی وی چینل کا "یوٹیوب" چینل گذشتہ نومبر میں بند کر دیا گیا تھا۔

انٹرنیٹ کمپنیوں نے بھی امریکی وزارت خزانہ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے فرانسیسی زبان کی پریس ٹی وی ویب سائٹ ، "کمرشل نیوز" ویب سائٹ ، ایرانی ریاست کے براڈکاسٹر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اکاؤنٹس ، اور انسٹاگرام پر "افق" اور "سلامت" چینلز کو بند کردیا۔

پاسداران انقلاب سے وابستہ "فارس" خبر رساں ایجنسی کا ڈومین بھی امریکی وزارت خزانہ کے حکم سے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی وجہ سے بند کردیا گیا تھا۔ یہ سائٹ عالمی (com) ڈومین سے ہٹ کر اب مقامی