کانگریس کی عمارت پر بلوے کے نئے مناظر سامنے آگئے
6 جنوری 2021ء کا دن امریکا کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس روز سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکڑوں حامیوں نے کیپٹل ہل میں کانگریس کی عمارت میں گھس کر کے ارکان کو یرغمال بنایا اور بہت سے ارکان کو وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ پرتشدد دھاووں میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔
چھ جنوری کے روز کانگریس کی عمارت پر دھاوے سے متعلق خبریں، تصاویر اور ویڈیو مناظر روزانہ سامنے آ رہے ہیں۔
صور جديدة تظهر اقتحام أنصار #ترمب للكونغرس#العربية pic.twitter.com/NSTm0jotJz
— ا لـ ـعـ ـر بـ ـيـ ـة (@AlArabiya) January 18, 2021
ان دھاووں کے تازہ مناظر میں ٹرمپ کے حامیوں کو کانگریس کی عمارت میںگھسنے کے بعد اندر گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ صدر ٹرمپ کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ ایک شخص فرش پر بیٹھا کسی سے موبائل فون پر بات کررہا ہے اور سیکیورٹی اہلکار اس کے قریب کھڑے ہیں۔ اس منظر میں دو سینگوں والی ٹوپی پہنا شخص سینٹ کے چیئرمین کی کرسی پر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔
"نیو یارک" اخبار کے ذریعہ شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں امریکی صدر کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت میں ہنگامہ برپا کیا، سرکاری کاغذات میں چھیڑ چھاڑ کی اور ان کی فلم بندی کی گئی جبکہ سینگوں والی ٹوپی شخص زور زور سے چلا رہا تھا۔ یہ منظر کسی ہالی وڈ کی فلم کی طرح لگ رہا ہے۔ یہ مناظر امریکی صحافی Luke Mogelson نے اپنے موبائل کیمرے میں بنائے جو ٹرمپ کے حامیوں کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔
This video from @NewYorker is incredible.
— Sawyer Hackett (@SawyerHackett) January 17, 2021
A man rifles through confidential Senate documents and says, “I think @tedcruz would want us to do this.” pic.twitter.com/GowauKXpaq
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حامی امریکا کی اہم ترین عمارت میں آزادانہ گھوم رہے تھے۔ وہ ایک ایک دفتر میں جاتے، تلاشی لیتےاور ان کی عکس بندی کرتے۔ امریکی وزارت انصاف کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک یہ نہیں جان سکے کہ آیا کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولنے والے افراد ٹرمپ کے حامی تھے۔
وفاقی حکام کا ہے کہ اریزونا سے گرفتار ہونے والے دو سینگوں والے شخص کی شناخت جیکب چانسلی کے نام سے کی گئی ہے جو دائیں بازو کی ایک انتہا پسند تنظیم "کیو-آنون" کا پیروکار اور سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہے۔