.

ایران: ایرانی نژاد امریکی کوجاسوسی کے جرم میں 10 سال جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک عدالت نے ایرانی نژاد امریکی شہری کو جاسوسی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر 10 سال جیل کی سزا سنا دی ہے جبکہ اس کے خاندان نے الزام عاید کیا ہے کہ اس کے خلاف تو کبھی عدالت میں مقدمہ چلایا ہی نہیں گیا ہے اور نہ اس کو اپنی صفائی کا حق دیا گیا ہے۔

ایرانی ، امریکی شہری عماد شرقی کے خاندان کے ترجمان نے جیل کی سزا کی تصدیق کی ہے۔ایرانی عدلیہ نے بھی سزا کے فیصلے کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے شرقی کا نام لیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ انھیں کل کتنے سال تک پابند سلاسل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے عماد شرقی پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے ضمانت پر رہائی کے وقت ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ ترجمان نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ شرقی کو جاسوسی اور دوسرے ممالک کو فوجی معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

امریکا کے نشریاتی ادارے این بی سی نے 18 جنوری کو 56 سالہ عماد شرقی کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی وائی جے سی نے اس سے تین روز پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ انھیں ملک کی مغربی سرحدوں سے غیرقانونی طور پر فرار کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انھیں کب اور کہاں سے پکڑا گیا تھا۔

اس خبر ایجنسی نے عماد شرقی کی بظاہر ایک ہوائی اڈے سے گرفتاری کے وقت کی تصویر بھی جاری کی تھی اور یہ کہا تھا کہ شرقی کو جاسوسی اور فوجی معلومات جمع کرنے کے جُرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا اور وہ اپیل عدالت میں سماعت سے قبل ہی ملک سے راہِ فراراختیار کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

ایرانی میڈیا نے شرقی کی گرفتاری کی خبر میں یہ نہیں بتایاتھاکہ وہ امریکی شہری ہیں۔این بی سی نے ان کے ایک خاندانی دوست کے حوالے سے ان کی امریکی شہریت کی اطلاع دی تھی اور اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ عماد شرقی کو 30 نومبر کو تہران میں ایک عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔وہاں انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ انھیں جاسوسی کے جرم میں ماخوذ کیا گیا ہے اور انھیں کسی ٹرائل کے بغیر 10 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق انھیں 6 دسمبر کو ایرانی حکام نے گرفتار کیا تھا لیکن ان کے خاندان کو چھے ہفتے تک ان کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔خاندانی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’انھوں نے عماد شرقی کے ذاتی تحفظ کے پیش نظر زبان نہیں کھولی تھی۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق شرقی کو دسمبر 2019ء میں تمام الزامات سے برّی کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود حکام نے ان کا ایرانی اور امریکی پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔خاندانی ترجمان کے مطابق شرقی کو گرفتاری کے بعد قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے اور ان کے ساتھ خاندان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔

عماد شرقی ایران میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔وہ اور ان کی اہلیہ 2016ء میں ایران لوٹے تھے تاکہ وہ اپنے وطن سے خود کومانوس اور ہم آہنگ کرسکیں۔وہ اپنی گرفتاری کے وقت ایک سرمایہ کار کمپنی سروا ہولڈنگ میں کام کررہے تھے۔

انھیں پہلی مرتبہ اپریل 2018ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور دسمبر 2018ء تک تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید رکھا گیا تھا۔اسی ماہ انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ان سے جیل میں مبیّنہ طور پر متعدد مرتبہ تفتیش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس وقت ایران میں دہُری شہریت کے حامل متعدد افراد اورغیرملکی پابندِ سلاسل ہیں۔ان میں تین ایرانی نژاد امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ناقدین ایرانی حکام پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ ان غیرملکی شہریوں کو مغربی حکومتوں سے سودے بازی کے لیے گرفتار کرتے ہیں اور پھر انھیں اپنے مطالبات پورے ہونے کی صورت میں رہا کردیتے ہیں۔