.

تُونس: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، ایک شخص ہلاک، کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہونے والا ایک شخص اسپتال میں چل بسا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سبیطلہ شہر میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔

متوفیٰ ہیکل راشدی کے خاندان نے بتایا ہے کہ مظاہرے کے دوران اس کو اشک آور گیس کا گولا لگا تھا جس سے وہ زخمی ہوگیا تھا۔

سبیطلہ کے نزدیک واقع بڑے شہر القصرین میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے متوفیٰ راشدی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کی موت کی وجوہ کا تعیّن کیا جاسکے۔

اس کی موت کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد مظاہرین کے ایک گروپ نے سبیطلہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان مزید جھڑپیں ہوئی ہیں اور آج منگل کے روز تُونس کے مختلف شہروں میں مزید احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں۔

دارالحکومت تُونس کے حبیب بورقیبہ ایونیو میں ہفتے کے روز بھی سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔وہ گذشتہ ہفتے پولیس کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ قریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں سے بیسیوں کو بلووں اور چوری کے الزامات میں جیل کا حکم دیا گیا تھا۔

تُونس میں غُربت ، بدعنوانیوں اور بے انصافیوں کے خلاف برپا شدہ عوامی انقلاب کوایک عشرہ ہونے کو ہے لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے دس سال بعد بھی شمالی افریقا میں واقع اس مسلم عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئی ہے۔

البتہ اس دوران میں اس نے جمہوریت کی جانب ضرور پیش رفت کی ہے۔گذشتہ دس سال کے دوران میں متعدد مرتبہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں۔ان کے نتیجے میں انتقالِ اقتدارکا عمل پُرامن انداز میں مکمل ہوا ہے۔

سیاسی میدان میں اس بہتری کے باوجود اقتصادی مسائل جوں کے تُوں برقرار ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔اس وقت ملک کا دِوالا نکلنے کو ہے جبکہ سرکاری خدمات کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔

تُونس اور دوسرے شہروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر لڑکے بھالے شریک ہوتے ہیں۔گذشتہ ہفتے مظاہرین نے بعض مقامات پر پولیس کی جانب پتھراؤ کیا تھا جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے پانی توپ اور اشک آور گیس کا استعمال کیا تھا۔

تُونس کے وسطی، دیہی اور جنوبی علاقے ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں اور بلووں کی لپیٹ میں ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ساحلی شہر سوسہ کے علاوہ وسطی شہروں سبیطلہ اور القصرین میں بھی لوگوں نے ابتر معاشی حالات کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔