.

الریاض:سعودی وزیرخارجہ سے یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے الریاض میں بدھ کے روز یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹموتھی لنڈرکنگ نے ملاقات کی ہے اور ان سے یمن کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شہزادہ فیصل اور امریکی ایلچی نے یمن میں جاری بحران کے جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے بارے میںبات چیت کی ہے۔اس ملاقات میں یمن میں متعیّن سعودی سفیر بھی موجود تھے۔

امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں متعیّن تجربہ کار سفارت کار ٹموتھی لنڈرکنگ کو یمن کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔ان کے تقرر کا مقصد جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔

اس وقت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ماضی میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنیوا میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے تھے لیکن ان میں بہت معمولی پیش رفت ہوسکی تھی۔

یمنی فریقوں نے قیدیوں کے تبادلے سمیت بعض ضمنی قسم کے مسائل طے کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن ملک میں جاری لڑائی کے خاتمے اور قومی اتحاد کی واحد حکومت کے قیام کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔اب ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے عہدے دار جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن بھی یمنی بحران کے خاتمےکے حامی ہیں لیکن ان کی انتظامیہ نے حال ہی میں یمن میں عرب اتحاد کی فوجی کارروائیوں کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔البتہ صدر بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔