.

برطانوی،ایرانی امدادی کارکن زغری ریٹکلف کے خلاف نئے الزامات ناقابل قبول ہیں: برطانیہ 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے ایران میں پانچ سالہ قید بھگتنے کے بعد رہائی پانے والی ایرانی نژاد برطانوی شہری اور امدادی کارکن زغری ریٹکلف کے خلاف نئے الزامات کے تحت مقدمہ کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام نے ان پر نظام کے خلاف پروپیگنڈا کے الزام میں نیا مقدمہ قائم کیا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ڈومینک راب نے اتوار کے روز ٹویٹر پر لکھا ہے:’’یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ ایران نے نازنین زغری ریٹکلف کے خلاف ایک اوربلاجواز مقدمہ بنا دیا ہے۔‘‘

انھوں نے لکھا ہے کہ ’’زغری کو برطانیہ میں اپنے خاندان کے پاس بلاتاخیر لوٹنے کی اجازت دی جانا چاہیے۔ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘

قبل ازیں زغری ریٹکلف کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کی مؤکلہ کے خلاف ایران کی ایک انقلابی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

انھوں نے ایرانی ویب سائٹ امتداد کو بتایا کہ ’’ان کی مؤکلہ کے خلاف انقلابی عدالت کی شاخ 15 میں مقدمے کی سماعت کی گئی ہے۔ان پر ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔‘‘

زغری ریٹکلف تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کی سابق پراجیکٹ مینجر تھیں۔انھیں ایرانی حکام نے اپریل 2016ء میں تہران سے واپسی پر بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔اس وقت وہ اپنے خاندان سے ملاقات کے بعد برطانیہ واپس جارہی تھیں۔

بعد میں ایک ایرانی عدالت نے انھیں نظام کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ایرانی حکام نے قریباً دو ہفتے پہلے ہی زغری ریٹکلف کو پانچ سالہ قید کی مدت پوری ہونے کے بعد رہا کیا ہے لیکن انھیں ایک اور الزام میں دوبارہ عدالت میں طلب کر لیا گیا تھا۔