.

سعودی عرب نے یمن سے آنے والے حوثی ملیشیا کے بارود سے لدے پانچ ڈرونزمارگرائے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن سے حوثی ملیشیا کے چھوڑے گئے بارود سے لدے پانچ ڈرونز کوسراغ لگا کر فضاہی میں تباہ کردیا ہے۔

عرب اتحاد نے جمعرات کی شب ایک بیان میں کہا ہے یمن سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے شہری علاقوں کی جانب ڈرونز چھوڑے تھے۔ان میں ایک ڈرون سے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

یمنی حوثیوں نے گذشتہ ایک ماہ سے سعودی عرب کے شہروں اور شہری اہداف پرڈرون اور بیسلٹک میزائلوں سے حملے تیز کررکھے ہیں۔ انھوں نے سات مارچ کو سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ راس تنورہ پر متعدد ڈرونز سے حملہ کیا تھا اورمملکت کے مشرق میں واقع شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کوبیلسٹک میزائل کے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

لیکن سعودی فورسز نے ان میں سے بیشتر ڈرونز کو تباہ کردیا تھا۔سعودی حکام کے مطابق راس تنورہ کی بندرگاہ پر پیٹرولیم کے ایک ٹینک پر سمندر سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا اور ظہران میں سعودی آرامکو کے اقامتی علاقے میں بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرے تھے۔

گذشتہ جمعہ کو حوثی ملیشیا نے سعودی دارالحکومت الریاض میں واقع تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے کو ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ لگ گئی تھی لیکن سعودی حکام نے اس پر جلد قابوپا لیا تھا۔

اس ڈرون حملے میں کوئی شخص زخمی ہوا تھا اور نہ ریفائنری سے تیل کی سپلائی معطل ہوئی تھی۔اس سے نکلنے والی پائپ لائنوں سے بھی تیل کی ترسیل جاری رہی تھی۔