.

ای کامرس کے سرخیل "علی بابا“ کو اربوں ڈالر کا جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے نگران اداروں نے ای کامرس کمپنی علی بابا کو اپنا اثر ورسوخ غلط استعمال کرنے پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے سرکاری ادارے نے علی بابا کمپنی کے خلاف کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں 2 ارب 78 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق علی بابا پر اشیا بیچنے والوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ کسی اور ای کامرس ویب سائٹ کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے۔
چینی نگران ادارے نے علی بابا پر عائد کیے گئے جرمانے کا تعین کمپنی کی سنہ 2019 میں ہونے والی فروخت کی بنیاد پر کیا ہے۔ سال 2019 میں تقریباً 455 ارب چینی یوآن کی فروخت کا چار فیصد علی بابا کو بطور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا جو 2 ارب 78 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔

علی بابا اور دیگر معروف چینی ٹکنالوجی کمپنیوں کو ملک میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث حکومت کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے شہری ان ٹکنالوجی پلیٹ فارمز کا استعمال شاپنگ، بلوں کی ادائیگی، ٹیکسی کی بکنگ اور دیگر روز مرہ کے کام انجام دینے کے لیے کرتے ہیں۔
دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں گزشتہ اکتوبر سے علی بابا کو حکومت کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے جب کمپنی کے سربراہ جیک ما نے چینی ریگولیٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

چینی ریگولیٹرز نے جیک ما کی مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی اینٹ گروپ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس پر جیک ما نے ریگولیٹرز کے بارے میں کہا تھا وہ ’وقت سے پیچھے‘ ہیں۔

جیک ما کی تنقید کو چین میں ریاستی بالادستی کے لیے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے، جس کے بعد حکومت اینٹ گروپ اور علی بابا کا مارکیٹ پر اثر و رسوخ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔