.

’’ایران امریکا پردباؤ بڑھانے کے لیے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کررہا ہے‘‘

جوہری سمجھوتے کے تحت ایران 2025ء سے قبل جدید سینٹری فیوجز مشینیں نصب نہیں کرسکتے:ڈینس راس 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے (مشترکہ جامع لائحہ عمل ،جے سی پی اواے) کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

یہ بات سابق امریکی سفارت کارڈینس راس نے العربیہ سے خصوصی گفتگو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ایرانیوں نے جس رفتارسے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی شروع کررکھی ہے،اس سے وہ امریکی انتظامیہ کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں اور پابندیوں میں زیادہ سے زیادہ ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں یقین ہے کہ امریکا جوہری سمجھوتے میں تو ضرور واپس آئے گا،اس لیے یہ واپسی کسی پیکج پر مبنی ہونی چاہیے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جوہری سمجھوتے میں تو شامل ہونا چاہتی ہے لیکن اس کا نظریہ یہ ہے کہ پہلے ایران اس کے تمام تقاضوں کو پورا کرے جبکہ ایران یہ مطالبہ کررہا ہے کہ پہلے اس پر عایدکردہ امریکا کی پابندیاں ختم کی جائیں۔

ڈینس راس نے بتایا کہ ’’ایرانیوں کے پاس اس وقت جوہری سمجھوتے کی شرائط کے برعکس قریباً 12 گنا زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے۔وہ ایڈوانس سینٹری فیوجز کو نصب کررہے ہیں اور پہلے ہی ان کے چار کیس کیڈزنصب کرچکے ہیں لیکن وہ جوہری سمجھوتے کے تحت 2025ء سے قبل جدید سینٹری فیوجز مشینیں نصب نہیں کرسکتے۔‘‘

ایران اور اسرائیل

راس کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک طرح کا ’’سایہ تنازع‘‘ چل رہا ہے لیکن اب یہ تنازع سایوں سے باہر آرہا ہے۔

انھوں نے اس تنازع کے حوالے سے اپنا یہ تجزیہ پیش کیا کہ ’’یہ تنازع جتنا کھلے گا تو اس حساب سے طرفین ایک دوسرے کے جواب میں کچھ کرنا چاہیں گے۔نطنزکا معاملہ دیکھ لیں ،اسرائیلی اس کا اعتراف نہیں کررہے ہیں کہ انھوں نے وہاں کچھ کیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان پر ہی زیادہ شک کیا جارہا ہے کہ نطنز میں تمام کیا دھرا ان ہی کا ہے۔‘‘

ڈینس راس کا کہنا تھا کہ ’’ایرانیوں نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور نطنز میں تخریبی واقعہ سے بنیادی طور پر ایران کا جوہری پروگرام پیچھے چلا گیا ہے یا کم سے کم یورینیم افزودگی کے معاملے میں تو اس کی پیش رفت کو روک لگ گئی ہے۔‘‘

سابق امریکی سفارت کار نے کہا کہ ’’اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو جنگ کے نقطہ آغاز سے نیچے ہی ہے لیکن یہ واضح طور پر تنازع تو ہے۔‘‘