.

موسمیاتی کانفرنس:صدربائیڈن کاامریکا کی گرین ہاؤس گیسوں کےاخراج میں 50 فی صدکمی کاوعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی بائیڈن انتظامیہ نے 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فی صد تک کمی کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اخراج کی سطح کو 2005ء تک لایا جائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو اپنی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں دوروزہ ورچوئل موسمیاتی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پراس نئے ہدف کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’امریکا ایک مرتبہ پھر تحفظ ماحول کی مہم میں قائدانہ کردار ادا کرے گا اور وہ صرف ’’اخلاقی اوراقتصادی حاکمیت‘‘ ایسے ایشو ہی کی قیادت کے لیے انتظار نہیں کرے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’کوئی اقدام نہ کرنے کی قیمت بڑھتی جارہی ہے،امریکا اب انتظار نہیں کرے گا۔اب ہمیں اس عشرے میں فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ ہم بدترین موسمیاتی بحران سے بچ سکیں۔‘‘

صدر بائیڈن امریکا کی تمام معیشت کو 2050ء تک کاربن سے پاک بنانا چاہتے ہیں۔اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک وسیع تر ایجنڈا پیش کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس پر عمل درآمد سے روزگار کے لاکھوں نے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ری پبلکن پارٹی کے بیشترارکان اس کی مخالفت کررہے ہیں اور وہ اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس سے امریکی معیشت کو نقصان کومجموعی طور پر پہنچے گا۔

صدر بائیڈن کے ایجنڈے کے تحت امریکا میں پاورپلانٹس ، آٹو موبیل کی صنعت اور معیشت کے دوسرے شعبوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی کی جائے گی لیکن وائٹ ہاؤس نے ان صنعتوں کے لیے الگ الگ اہداف مقرر نہیں کیے ہیں۔

اس موسمیاتی کانفرنس سے قبل جاپان نے 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 46 فی صد تک کمی کا اعلان کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکا کی پیروی میں کینیڈا نے بھی کاربن کے اخراج پر قابو پانے کا نیا ہدف مقرر کیا ہے۔

امریکا کے سابق صدر براک اوباما نے اپنے دورِحکومت میں 2025ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2005ء کی سطح سے 26 سے 28 فی صد تک کمی کا اعلان کیا تھا لیکن اب نئے ڈیموکریٹک صدر بائیڈن نے اس ہدف کو دُگنا کردیا ہے۔انھوں نے حال ہی میں 20 کھرب 30 ارب ڈالر مالیت کا انفرااسٹرکچر کا نیامنصوبہ متعارف کرایا ہے۔

اس کے تحت اس عشرے کے دوران میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔اس کے تحت صاف توانائی کا نیا معیار مقرر کیا گیا ہے اور بجلی کے شعبے میں 2035ء تک گرین ہاؤس کااخراج صفر ہوگا اور گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کردیا جائے گا لیکن ان اقدامات پر عمل درآمد سے قبل کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی۔

صدر بائیڈن برسراقتدارآنے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر امریکا کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی مہم میں قائدانہ کردار دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ان کے پیش رو ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) سے متعلق پیرس سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

لیکن اب امریکا کی نئی انتظامیہ پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپوں،کارپوریٹ لیڈروں ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اورغیرملکی حکومتوں کی جانب سے کاربن گیسوں کے اخراج میں اس عشرے کے اختتام تک 50 فی صد تک کمی کے لیے ہدف مقرر کرنے کا دباؤ ہے تاکہ اس ضمن میں دوسرے ممالک کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔

عالمی لیڈر قبل از صنعتی دور کے مطابق عالمی حدت کو 1۰5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ہدف کی صورت ہی میں موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔