.

تجریدی آرٹسٹوں نے طائف کی دیواروں کو نگار خانہ بنا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مغربی شہر طائف کے کئی محلوں کی دیواروں کو تجریدی آرٹ کے مقامی آرٹسٹوں نے قابل دید خوبصورت میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے۔

رمضان المبارک کی مناسبت پر دیواروں پر بنائے گئے فن پاروں میں روایتی فانوس، چنے فروخت کرنے والی ریڑھیاں اور کرونا سے بچاؤ کی بعض ہدایات انتہائی جاذب نظر انداز میں بنائی گئی ہیں۔

آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کے رکن تجریدی آرٹسٹ محمد باجبیر نے العربیہ کے نامہ نگار کو بتایا ’’رمضان المبارک کی خوشی میں احمد القرشی اور میں نے طائف شہر کی پارک کالونی، شاہراہ ٹیلی وژن اور الوشحاء کی تین دیواروں کو کیونس کے طور پر منتخب کر کے ان پر فن پارے بنانا شروع کر دیے۔‘‘

ہم نے ان دیواروں کو ہلال رمضان، رمضانی فانوسوں کے علاوہ چنے فروخت کرنے والی روایتی ریڑھیوں کے ڈیزائنوں سے سجا دیا ہے۔ ہم نے تجریدی آرٹ کے نمونوں کے ذریعے کرونا سے بچاؤ کی تدابیر میں استعمال ہونے والے متعدد سلوگنز کو بھی خوبصورت آرٹ ورک کے ذریعے پیش کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ’’تجریدی آرٹ ورک میں ریئلسٹک، پورٹریٹ مکتبہ فکر کی روشنی میں نقش ونگار بنائے ہیں۔ نیز ہم نے پوپ آرٹ کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہم نے ائر برش اور پیٹ کلر کے ذریعے اپنی کاوش کو دو دنوں میں مکمل کیا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہماری یہ کوشش دراصل کرونا سے بچاؤ کی مہم کو سہارا دینے اپنی سی کوشش ہے۔ ہم نے رہائشی کالونیوں، پبلک مقامات، پارکس میں کرونا بچاؤ کی مہم کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے رمضان المبارک کے دوران در ودیوار دیکھنے والوں کو بھلا منظر پیش کر رہے ہیں۔''