.

ایمن الظواہری ایران کے ساتھ معاملات طے کرتے تھے:سابق القاعدہ کمانڈر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے ایک سابق کمانڈر محمد ابراہیم مکاوی نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کے ایران کے ساتھ معاملات چلتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ابراہیم المکاوی کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ وہ المکاوی القاعدہ میں 'سیف العدل' کے لقب سے مشہور ہے۔ مکاوی کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کے ایرانی خفیہ اداروں کے ساتھ معاملات چلتے رہے ہیں۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیئے گئے بیان میں کہ تنظیم میں ہر شخص الظواہری کے ایرانی اور سوڈانی انٹلیجنس کے ساتھ تعلقات کو جانتا تھا۔ مکاوی نے مزید کہا کہ ایمن الظواہری اپنےآپ اور اپنے دوست عبد العزیز الجمل کے ساتھ ایرانی انٹلیجنس کے لیے کام کرنے کی پیش کش کرتے تھے۔

مکاوی کا کہنا تھا فکری اور تنظیمی لحاظ سے انہوں نے 1989 میں پاکستان کے شہر پشاور میں الظواہری سے اختلاف کیا تھا۔ یہ اختلاف دوسرے القاعدہ ارکان کو بھی معلوم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے رہ نما اپنے اخلاق ، عقیدے یا ذاتی حیثیت کے بغیر اپنے لیے ذاتی وقار کی تلاش میں تھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 1987 میں الظواہری نے سوئزرلینڈ میں ایک اخوانی رہنما کی مدد سے یورپ اور امریکا جانے کے لیے متعدد ویزے حاصل کیے تھے۔ پھر 11 ستمبر کے حملوں میں حصہ لیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ محمد ابراہیم مکاوی مصری فوج میں سابق افسر تھے لیکن وہ اپنے خیالات کی وجہ سے ملازمت چھوڑ گئےاورانہوں نے پاکستان اور افغانستان کا سفر کیا جہاں انہوں نے جہادی تنظیم القاعدی میں شمولیت اختیار کی اور افغان جہاد میں بھی حصہ لیا۔مکاوی نے ایک پاکستانی خاتون سے شادی کی اور شہریت حاصل کی۔

مکاوی ایک سے زاید ناموں اور کنیت سے مشہور ہوا۔ اس کا ایک نام محمد صلاح زیدان تھا جب کہ القاعدہ میں اس نے عسکری شناخت کے لیے سیف العدل کی کنیت اختیار کی۔ امریکی حکومت نے سیف العدل کی گرفتاری میں مدد دینے پر 10 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا جب کہ امریکا کا خیال تھا کہ سیف العدل ہی ایمن الظواہری کا متوقع جانشین ہوسکتا ہے۔

ایرانی انٹلیجنس نے محمد صلاح الدین زیدان کو 2001 سے سیف العدل کے نام سے گرفتار کیا تھا جس کا نام افغانستان سے اس کے علاقے میں داخل ہونے کے بعد سامنے آیا تھا اور وہ اب بھی ایران میں ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران نے ولید مصطفیٰ حامد کو گرفتار کیا تھا جس کا عرفی نام ابو الولید ہے۔ وہ زیدان کا داماد ہے اور اسے جاسوسی کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور وہ ایرانی جیل اوین میں قید ہے۔