.

جو بائیڈن کی ایتھوپیا کے متنازع علاقے ٹیگرائے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز افریقی ملک ایتھوپیا کے متنازع علاقے'ٹیگرائے' میں انسانی حقوق کی "ناقابل قبول" خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے علاقے میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

بائیڈن نے ایک بیان میں کہا ہےکہ ٹیگرائے میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ، جن میں بڑے پیمانے پر جنسی تشدد جیسے سنگین اور خطرناک ہتھکنڈے بھی شامل ہیں۔ یہ سب کچھ نا قابل قبول ہے۔ اسے ختم ہونا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دجلہ خطے میں متحارب فریقوں کو جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیئے اور اس کی پاسداری کرنی چاہیئے۔ اریٹرین اور امہرہ صوبے کی سیکیورٹی فورسز کو 'ٹیگرائے' سے نکلنا ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ "قرن افریقہ" میں ان کے ایلچی جیف فیلٹمین اگلے ہفتے اس خطے میں واپس آئیں گے۔ بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ مجھے تشدد کے بڑھنے اور ایتھوپیا کے مختلف حصوں میں علاقائی اور نسلی تقسیم کو بڑھنے پر سخت تشویش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیگرائے میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر جنسی تشدد بھی شامل ہے۔

اتوار کے روز امریکا نے ایتھوپیا اور اریٹرین کے عہدیداروں کو ویزا دینے پر پابندی کا اعلان کیا۔ امریکا نے الزام لگایا ہے کہ ایتھوپیا اور اریٹریا کےحکام نے کے دجلہ خطے میں چھ ماہ سے جاری تنازعہ کو ہوا دی ہے۔ اور انہوں نے لڑائی ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایتھوپیا کو اقتصادی اور سلامتی سے متعلق امداد پر وسیع پیمانے پرپابندیاں عائد کرے گا تاہم صحت ، خوراک اور تعلیم جیسے شعبوں میں انسان دوستی بنیاد پر امداد جاری رکھی جائے گی۔

ادیس ابابا ایک طویل عرصے سے واشنگٹن کا حلیف ہے لیکن ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے نومبر میں ٹیگرائے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی ٹیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے رہ نماؤں کی گرفتاری اور انہیں غیر مسلح کرنے کے لئے شروع کردی تھی۔