.

سعودی عرب: سکیورٹی اہلکار کے قاتل ’داعشی‘ کا سرقلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تبوک شہر میں ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ کے ایک جنگجو کو قصاص کے طور پرفنا کےگھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ملزم ھائل بن زعل بن محمد العطوی نے کچھ عرصہ قبل تبوک میں ایک سیکیورٹی اہلکار عبداللہ بن ناصر الرشیدی پرحملہ کرکے اسے شہید کردیا تھا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا اور اسے پوچھ گچھ کی۔ اس نے سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق’داعش‘ کے ساتھ ہے۔

هايل بن زعل بن محمد العطوی
هايل بن زعل بن محمد العطوی

بیان میں کہا گیا ہے کہ داعشی جنگجو کو دہشت گردانہ نظریات رکھنے، کتاب وسنت کی اسلامی تعلیمات سے انحراف کرنے، اجماع امت اور اسلاف کی تعلیمات کے برعکس انتہا پسندانہ طرز عمل اپنانے اور دہشت گردی کامظاہرہ کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی اہلکار کو شہید کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ملزم کے خلاف تمام قانونی کارورائی مکمل کرنے اور تمام جرائم کے اعتراف کے بعد اسے سزائے موت سنائی گئی جس پرآج بدھ کے روز عمل درآمد کردیا گیا۔