.

فلپائن:فضائیہ کا سی 130طیارہ حادثے کا شکار؛45 افراد ہلاک،49 فوجیوں کو بچالیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن کی فضائیہ کا سی 130 طیارہ اتوار کے روز جنوبی صوبہ سولو میں گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 42 فوجی اور تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 49 فوجیوں کو بچا لیا گیا ہے۔ان میں سے بعض فوجی جلتے طیارے سے کود کرجانیں بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

فوجی طیارہ زمین پرگرنے کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا اور کئی حصوں میں بٹ گیاتھا۔جائے وقوعہ کی تصاویر میں متعدد فوجیوں کو زخمی یا مردہ حالت میں زمین پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے اور درختوں کے درمیان پھیلے ملبے سے شعلے اور سیاہ دھواں بلند ہو رہا تھا۔

امریکا کی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ کے ساختہ سی 130 ٹرانسپورٹ طیارے میں 96 فوجی سوار تھے۔ان میں تین پائیلٹ اور عملہ کے پانچ ارکان اور باقی تمام فوجی تھے۔ وہ جزیرے سولو میں انسداد شورش کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے جارہے تھے۔طیارے نے جولوکے ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش کی تھی، لیکن رن وے کو چھوئے بغیر قریب واقع علاقہ پٹیکول میں درختوں کے درمیان گرکر تباہ ہوگیا۔

جائنٹ ٹاسک فورس سولو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعدد فوجیوں کوطیارے سے کودتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے زمین پر ٹکرانے کے بعد شعلوں کی لپیٹ میں آنے سے بچ گئے تھے۔

فوج نے بیان میں کہا ہے کہ حادثے کے بعد طیارے کے ملبے سے42 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 49 زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ پانچ فوجیوں کا کوئی پتا نہیں ہے۔محکمہ قومی دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ زمین پر موجود تین شہری بھی طیارہ گرنے سے ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

فلپائنی فوج کے ترجمان کرنل ایڈگارڈ اریوالو کا کہنا ہے کہ طیارے پر کسی حملے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔تاہم حادثے کی تحقیقات ابھی شروع نہیں کی گئی اور امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

فلپائن کی فوجی کمان کے مطابق طیارے میں سوار فوجیوں کا درجہ پرائیویٹ تھا اور انھیں ان کی بٹالینوں میں تعینات کیا جا رہا تھا۔ وہ شمال مشرق میں قریباً 460 کلومیٹر (290 میل) کے فاصلے پرواقع لاگوئنڈنگن سے جولو کے صوبائی ہوائی اڈے کے لیے پرواز کر رہے تھے۔

وہ فلپائن کے جنوب میں واقع وسیع وعریض جزائر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے جارہے تھے۔اس علاقے میں فلپائنی فوج ابوسیاف اور دوسرے انتہاپسند جنگجوگروپوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگ لڑ رہی ہے۔ابوسیاف اغوا برائے تاوان اور دوسری تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

فلپائن کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق جولو ہوائی اڈے پر 1200 میٹر طویل رن وے ہے اور یہاں عام طور پرعام مسافرطیارے اترتے ہیں۔البتہ کبھی کبھار کچھ فوجی پروازیں بھی یہاں آتی ہیں۔جزیرہ جولو جزیرہ نما سولو کا حصہ ہے اور یہ دارالحکومت منیلا کے جنوب میں قریباً 950 کلومیٹر (600 میل) کے فاصلے پرواقع ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے سی-130 ایچ ہرکولیس طیارے کا رجسٹریشن نمبر 5125 تھااور یہ حال ہی میں امریکا سے فلپائن پہنچا تھا۔جنوری میں ایک سرکاری ویب سائٹ نے بتایا تھا کہ یہ امریکی محکمہ دفاع کی سکیورٹی تعاون ایجنسی کے ذریعے مہیاکردہ دو طیاروں میں سے ایک تھا۔ کی ویب سائٹ C-130.net کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے نے 1988ء میں پہلی مرتبہ اڑان بھری تھی۔ سی 130 کا یہ ماڈل دنیا بھر میں مسلح افواج ٹرانسپورٹ مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ فلپائن کی مسلح افواج کا فضائی تحفظ کا ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں۔ گذشتہ ماہ ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار چھے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 1993ء میں فلپائن کی فضائیہ کے سی 130 طیارے کے حادثے میں 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ 2008ء میں فلپائن کی فضائیہ کی ایک اور طیارے کے حادثے میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ملک میں طیارے کا بدترین حادثہسنہ 2000ء میں پیش آیا تھا اور ایئرفلپائن کا بوئنگ 737 گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس میں سوار131 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔