.

ایران، سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پراُمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کے لیے پرامید ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے تاہم تہران کہنا ہے کی الریاض کے ساتھ بعض حل طلب مسائل پر اختلافات دور کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

سعید خطیب زادہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران خطے میں امن اور استحکام کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران، ریاض کے ساتھ مثبت نتائج کے حصول تک بات چیت جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ جون کے وسط میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ’’العربیہ‘‘ چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان اختلافات کی نسبت خطے میں اتفاق رائے کے زیادہ مواقع ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مقابلہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ سعودی عرب اور ایران برادر ملک ہیں۔ دونوں کے درمیان مشترکہ قدریں اختلافات سے دسیوں گنا زیادہ ہیں۔ انہوں نے خطے کے انتظامی امور میں ایران اور سعودی عرب کو مل کرچلنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

احمدی نژاد نے یورپی یونین کی طرز پرخطے کےممالک کے درمیان اتحاد کےقیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔