.
کرونا وائرس

سعودی عرب:12 سال سے کم عمربچّوں کوبیرونی تفریحی سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 12 سال سے کم عمر بچّوں کے گھر سے باہرتفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر عاید پابندی ختم کردی گئی ہے۔انھیں اب کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کی ضرورت نہیں اور وہ کھلی جگہوں پر منعقد ہونے والی تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’گھر سے باہر تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بچّوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوانے والے کسی بالغ فرد کے ساتھ ہوں۔ان میں زکام ایسی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔انھیں بخار، کھانسی اور نزلہ نہیں ہونا چاہیے۔وزارت صحت کی توکلنا ایپ پر ان کی صحت کا اسٹیٹس یہ ظاہرہونا چاہیے کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور نہ وہ کسی متاثرہ فرد سے رابطے میں آئے ہیں۔‘‘

اتھارٹی نے مزید ہدایت کی ہے کہ گھر سے باہر تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے دوران میں ہروقت احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد کیا جائے۔تفریحی تقریبات میں کروناوائرس سے بچنے کے لیے کل گنجائش کے صرف 40 فی صد افراد کو شرکت کی اجازت دی جائے۔

جی ای اے نے وضاحت کی ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچوں کو بندجگہوں (چاردیواری میں بند) میں منعقد ہونے والی تفریحی تقریبات اور سرگرمیوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور صرف ویکسین لگوانے والے افراد ہی کو محدود تعداد میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت لوگوں کی ویکسین لگوانے کے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے طلبہ اور اسکولوں کے عملہ کو ویکسین نہ لگوانے کی صورت میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سعودی عرب میں نئے تعلیمی سال کا 29 اگست سے آغاز ہوگا۔اس سے پہلے محکمہ صحت کا عملہ تمام طلبہ ،ان کے اساتذہ اور تعلیمی عملہ کو ویکیسین لگانے کے لیے کوشاں ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق اب تک مملکت بھر میں کووِڈ-19 کی ویکیسن کی تین کروڑ سے زیادہ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔30 فی صد ملکی آبادی کو کروناوائرس کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔مملکت میں اکتوبرتک 70 فی صد آبادی کو ویکسین لگادی جائے گی اور اس طرح ’اجتماعی قوتِ مدافعت‘(ہرڈ ایمیونٹی) کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

سعودی عرب میں 587 ویکسین مراکز میں منظورشدہ ویکسینوں کے انجیکشن لگائے جارہے ہیں۔مملکت نے اب تک کووِڈ-19 کی چارویکسینوں؛ فائزر،بائیو۔این ٹیک ، ماڈرنا ، آکسفورڈ۔آسٹرازینیکا اور جانسن اینڈجانسن،کے استعمال کی منظوری دی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک کروناوائرس اور اس کی نئی شکلوں سے تحفظ کے لیے اجتماعی قوت مدافعت کےہدف کے حصول کے ضمن میں وزارت صحت کی ویکسین لگانے کی مہم درست سمت میں جارہی ہے اور اس وقت روزانہ 311674 افراد کو ویکسینیں لگائی جارہی ہیں۔اگر وزارت صحت اسی رفتار سے ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو سعودی عرب اکتوبر تک اجتماعی قوت مدافعت کا ہدف حاصل کرلے گا۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے یکم اگست سے ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں اور مکینوں پر مختلف قدغنیں لگادی ہیں اور ان کے سرکاری ،غیرسرکاری دفاتر اورعوامی مقامات میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

ویکسین لگوانے کا ثبوت فراہم نہ کرنے والے افراد اب شاپنگ مالوں ، ریستورانوں ، کیفے ، بیوٹی پارلر، حجام کی دکانوں،خریداری مراکز، سرکاری اور نجی مقامات ، اسکولوں ، شادی ہالوں ،تقریبات اور مارکیٹوں میں داخل نہیں ہوسکتے ہیں جبکہ ویکسین لگوانے والے افراد ہی اب پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرسکتے ہیں،تمام اقتصادی ، تجارتی ، ثقافتی ، تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔