.
افغانستان وطالبان

طالبان ’داعش‘ کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں:سابق افغان وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق وزیر داخلہ اور پاکستان میں افغان صدر کے مندوب محمد عمر داؤدزی نے کل ہفتے کو ’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ واشنگٹن نے کابل حکومت سے نہیں بلکہ تحریک طالبان تحریک سے مذاکرات کیے تھے۔انہوں نے الزام عاید کیاکہ طالبان افغانستان میں ’داعش‘ کی طرز پر’خلافت‘ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ صدر اشرف غنی جن حالات میں ملک سے چلے گئے وہ ابھی گومگوں کا شکار ہیں۔ فوج نے سیاستدانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے طالبان سے جنگ نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں عمر داؤد زئی نے کہا کہ فوج میں بے تحاشا بدعنوانی طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کی سب سے نمایاں وجہ بنی ہے۔ ہم طالبان کے کنٹرول کی رفتار سے حیران تھے وہ کس برق رفتاری سے پورے ملک پر قابض ہوگئے۔

اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ افغان ایوان صدر اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات حالیہ عرصے میں میں خراب رہے ہیں۔ افغان عوام اعتدال پسند شخصیات چاہتے ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں۔

جامع حکومت

یہ قابل ذکر ہے کہ طالبان نے کل ہفتے کو ایک "جامع حکومت" کے قیام پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک ایسے وقت میں ملاقات کی جب افغان دارالحکومت سے بڑے پیمانے پر انخلاء میں افراتفری اب بھی موجود ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوج کی واپسی کو مشکل ترین فیصلہ قرار دیا تھا۔

عبد الغني برادر
عبد الغني برادر

طالبان کے دوسرے اہم کمانڈر ملا عبدالغنی برادر تحریک کے سابق ہیڈ کوارٹر قندھار میں دو دن گزارنے کے بعد ہفتے کو کابل پہنچے۔

گذشتہ دنوں افغان دارالحکومت میں دیگر طالبان رہ نماؤں کو بھی دیکھا گیا۔ جن میں خلیل حقانی بھی شامل تھے جو امریکا کی طرف سے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک ہیں اور ان کی گرفتاری پر پانچ ملین ڈالر انعام کے انعام کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سخت گیر جنگی سرداروں کی ملاقات

طالبان کے حامی سوشل میڈیا نے حقانی اور گلبدین حکمت یار کے مابین ملاقات کی تصاویر شائع کیں جو کہ کابل پر بمباری کے لیے ملک کے سب سے خطرناک جنگجو سردار سمجھے جاتے ہیں۔ خاص طورپر1992-1996 کے دوران۔ حکمت یار کو "کابل کا قصاب" کہا جاتا ہے۔ وہ 1996 سے 2001 کے درمیان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلاف ہوگئے تھے۔

ملا برادر کی افغانستان آمد کے بعد سے طالبان نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکمرانی اس ملک سے 1996 سے 2001 کے عرصے کی حکومت سےمختلف ہوگی۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری کی جائے گی اور طالبان دوسری افغان قوتوں کو ساتھ لے کرچلے گی۔