.

امریکا پابندیاں عاید کرنے کی ’لت‘ ترک کردے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا پرزوردیا کہ وہ ملک کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کی ’لت‘ ترک کردے۔اس نے صدر جو بائیڈن پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ بھی اپنے پیش رو ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح ’ڈیڈ اینڈ‘پالیسیوں پرعمل پیرا ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے یہ تبصرہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سےچارایرانیوں کے خلاف مالی پابندیوں کےاعلان کے ایک روز بعد کیا ہے۔ان پرایرانی نژاد امریکی صحافی کے امریکا میں اغوا کی منصوبہ بندی کے الزام میں پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

خطیب زادہ نے کہا:’’واشنگٹن کویہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے پاس اب پابندیوں کی لت کو ترک کرنے اورایران کے بارے میں اپنے بیانات اورطرزِعمل،دونوں میں احترام کا اظہار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہاہے۔‘‘

امریکا کے محکمہ خزانہ نے جمعہ کو بیرون ملک ایرانی منحرفین اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مہم میں ملوّث ایرانی انٹیلی جنس کے چارکارندوں کے خلاف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

امریکا کی جولائی میں جاری کردہ ایک وفاقی فردِجرم کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کے ان افسروں نے 2018ء میں صحافیہ مسیح علی نجاد کے ایران میں مقیم رشتہ داروں کو مجبورکرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اس کی گرفتاری مدد دیں اوراس کوایران لانے کے لیے کسی تیسرے ملک میں جانے پرآمادہ کریں تاکہ وہاں سے اس کو گرفتارکرکے ملک میں لایا جاسکے۔

مگر جب ان کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا توانھوں نے مبیّنہ طور پر گذشتہ دو سال کے دوران میں مسیح علی نجادکی نگرانی کے لیے امریکا میں نجی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کی تھیں۔

خطیب زادہ نے جولائی میں نجاد کے اغوا سے متعلق ان امریکی الزامات کوبے بنیاد قرار دے کرمسترد کردیا تھا اوراس کہانی کو ہالی ووڈ کا کوئی فلمی منظرنامہ قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو یک طرفہ طور پرخیرباد کہہ دیا تھا اوراس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایران کے ساتھ اس جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کے لیے ویانا میں اپریل سے بات چیت کررہی تھی لیکن جون سے یہ مذاکرات معطل ہیں اور ایران میں نئے صدر ابراہیم رئیسی کے اقتدار سنبھالنے کے باوجود یہ مذاکرات ابھی تک بحال نہیں ہوئے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ ایران اس سے پہلے اس سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور مقررہ حد سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کی تمام سرگرمیاں معطل کردے۔

دوسری جانب ایران کا یہ مطالبہ ہےکہ امریکا کو پہلے ٹرمپ دور کی عایدکردہ تمام پابندیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔اس کے بعد ہی وہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی پاسداری کرے گا اور یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا عمل روک دے گا۔امریکا کی ایران کے خلاف یہ سابقہ قدغنیں تو ختم نہیں ہوئی ہیں لیکن بائیڈن انتظامیہ نے ایرانی حکام کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔