امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے اندر "انتہا پسند" اور "اعتدال پسند" دھڑوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تصادم کے دوبارہ آغاز میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ عسکری پیش رفت کے باوجود امریکی انتظامیہ اب بھی سفارتی راستہ جاری رکھنے کے مواقع دیکھ رہی ہے۔
صحافی جو روگن کے ساتھ انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی فائل سے نمٹنے کے طریقے کو ایک "محتاط سفارتی رقص" سے تعبیر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز سے متعلق واقعات کے بعد انتہا پسند دھڑے نے اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ اس سمندری راستے سے تیل کی مسلسل ترسیل تہران کے پاس موجود دباؤ کے کارڈز کو کم کر دیتی ہے اسی لیے اس دھڑے نے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔
JD Vance on Iran:
— Clash Report (@clashreport) July 15, 2026
If the Iranian people want to rise up and change their government, that's up to them.
But we're not going to send 150,000 ground troops in order to accomplish a change in a regime unless the people on the ground themselves want to accomplish that outcome.… pic.twitter.com/lDpQXMX0k9
اعتدال پسند دھڑا
دوسری جانب جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے اندر "بنیاد پرست" دھڑا کہتے ہیں وہ سمجھتا ہے کہ کشیدگی ایک غلطی تھی اور یہ دھڑا امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا حامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس دھڑے کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جب بھی حملے یا تشدد کے واقعات ہوتے ہیں تو امریکہ عسکری جواب دیتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ماہ فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کو "بری طرح مسخ" کیا گیا اور اس کے گرد جو باتیں کی گئیں وہ اس کے حقیقی مواد کی عکاسی نہیں کرتیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ معاہدہ اب مکمل طور پر نافذ نہیں رہا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوابی اقدامات کا تبادلہ ہوا ہے جس میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنا شامل ہے۔
ان تمام تر صورتحال کے باوجود جے ڈی وینس نے یقین دلایا کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ اپنے معاملات میں "درست راستے" پر گامزن ہے۔ تاہم انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والا مرحلہ بار بار رکاوٹوں کا شکار ہو سکتا ہے اور کسی بھی مفاہمت تک پہنچنا ایک "پیچیدہ عمل" ہوگا جس میں اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے۔
جے ڈی وینس کے یہ بیانات ایران کے اندر سیاسی منظرنامے کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاحال ایرانی حکومتی اداروں کے اندر دو دھڑوں میں تقسیم یا جے ڈی وینس کی جانب سے بتائے گئے رابطوں کے حوالے سے تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔