.

ترکی میں گرفتاریوں کی تازہ لہر،مزید 214 فوجی زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام کی جانب سے امریکا میں مقیم ترک عالم دین سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف گرفتاریاں دوبارہ شروع کی گئیں ہیں۔

منگل کو ترک حکام نے 41 صوبوں میں 214 فوجیوں کو فتح اللہ گولن سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا۔

ازمیر پبلک پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے کی گئی تفتیش کےمطابق انقرہ جو گولن تحریک کو ’دہشت گرد تنظیم‘ کا خفیہ ڈھانچہ قرار دیتا ہے کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

فتح اللہ گولن
فتح اللہ گولن

حکام نے 44 فوجیوں کو گرفتار کیا اور 145 دیگر کو بغاوت کی کوشش کے بعد برطرف کر دیا گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں ایک کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت 7 کپتان، سات لیفٹیننٹ کرنل 7 لیفٹیننٹ 41 نان کمیشنڈ افسران اور 5 افسر شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ترک حکام نے 19 نومبر 2019 سے ازمیر پبلک پراسیکیوٹر آفس کی تحقیقات کےدوران 20 کارروائیوں میں 2،996 فوجیوں کو گرفتار کیا تھا۔

صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک الخدمہ آرگنائزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 15 جولائی 2016 کو ملک میں ناکام بغاوت کی کوشش کے لیے ذمہ دار ہیں۔ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے گولن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔