تونس میں النہضہ موومنٹ میں اجتماعی استعفے سامنے آئے ہیں۔ یہ بات آج ہفتے کے روز "العربيہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتائی۔
اس حالے سے تونس کے ریڈیو چینل "موزائک ایف ایم" نے بتایا ہے کہ النہضہ پارٹی کے 113 رہ نماؤں اور ارکان نے اپنے استعفے پیش کیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ پارٹی کے اندر اصلاحات میں ناکام ہونا ہے۔
ریڈیو نے مستعفی ارکان کے حوالے سے بتایا ہے کہ "اجتماعی استعفوں کی براہ راست وجہ ان افراد کا پارٹی کے اندر اصلاحات میں ناکام رہنے کا اعتراف اور اس بات کا اقرار ہے کہ موجودہ قیادت قومی دھارے میں پارٹی کے تنہا رہ جانے کی مکمل ذمے دار ہے"۔
دوسری جانب النہضہ کے مستعفی رہ نما سمیر دیلو کا کہنا ہے کہ "پارٹی الگ تھلگ ہو گئی ہے، ہمارے استعفے حتمی ہیں اور دیگر استعفوں کا انتظار ہے"۔
اس سے قبل گذشتہ رات النہضہ پارٹی کی مجلس شوری کا 53 واں اجلاس منعقد ہوا تھا۔ دُور سے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ آج ہفتے کے روز تونس کے عوام صدر قیس سعیّد کی جانب سے حکومتی تشکیل اور وزیر اعظم کے نام کے اعلان کے منتظر ہیں۔
تونس میں العربیہ کی خاتون نمائندہ کے مطابق سابقہ حکومت میں وزیر داخلہ کا منصب رکھنے والے توفیق شرف الدین وزارت عظمی کے لیے اہم ترین امیدوار ہوں گے۔
-
صدر قیس سعید پر مبینہ قاتلانہ حملے کا منصوبہ ساز لیبیا سے تونس میں داخل ہوا؟
تونس کے سکیورٹی حکام نے ملک کے صدر قیس سعید کے مبینہ قتل کے منصوبے کو ناکام بنانے ...
بين الاقوامى -
ملک میں قانون کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے: تونسی صدر
تونس میں صدر قیس سعید نے فوجی جج منیر عبدالنبی کو عسکری عدلیہ کے ادارے کا ڈائریکٹر ...
بين الاقوامى -
آئین ، حقوق اور آزادی کا احترام کرتے ہیں : تونس کے صدر کا امریکا کو جواب
تونس کے صدر قیس سعيّد نے "جمہوریت کے احترام" کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی ...
بين الاقوامى