.

سعودی عرب:قومی دن کی تقریب میں خاتون کو جنسی طور پرہراساں کرنے والا شخص گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر طائف میں حکام نے ایک شخص کو عوامی پارک میں مملکت کے قومی دن کی تقریب کے دوران میں خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

اس واقعہ کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے ذریعے پتا چلا تھا۔ ویڈیو میں نظرآنے والی متاثرہ لڑکی روایتی لمبے ڈھیلے ڈھالے لباس عبایا میں ملبوس تھی۔اس مشتبہ ملزم نے خاتون کوچھوا تھا اور پھر جلدی سے بھاگ گیا تھا۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس مشتبہ شخص کی عمر 20 سال سے زیادہ ہے اور وہ سعودی شہری ہے۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ مشتبہ شخص اب حکام کی تحویل میں ہے،اس کوابتدائی قانونی کارروائی کے بعد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں جنسی ہراسیت کی سزا

اس واقعے کے بعد وزارت داخلہ نے دوسروں کو جسمانی یا زبانی طور پرجنسی طور پر ہراساں کرنے والے مشتبہ افراد کے انتباہ کے لیے سزاؤں کی فہرست کا اعلان کیا ہے۔

وزارت کے مطابق کسی دوسرے شخص کے ساتھ جسمانی یا زبانی طور پر کیے گئے جنسی مفہوم کے ساتھ کوئی بھی ’’لفظ، عمل یا اشارہ‘‘ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ فعل متاثرہ شخص کوہراساں کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا اور مستوجب سزا ہوگا۔

اس طرح کے جرم کے مرتکب شخص کو 27,000 ڈالر (ایک لاکھ سعودی ریال) تک جرمانے کے علاوہ دو سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اگر وہ مجرم اس جرم کا دوبارہ ارتکاب کرتا ہے تو جیل کی سزا پانچ سال تک بڑھ جائے گی اور80,000 ڈالر تک جرمانہ ہوگا۔اگر درج ذیل حالات میں جنسی ہراسیت کے جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو پھرمشتبہ ملزم کو یہی دُگنا سزا دی جائے گی:

  • اگر متاثرہ نابالغ ہے یا خصوصی ضروریات کا حامل شخص ہے۔
  • اگر جنسی ہراسیت کا واقعہ کسی حادثے یا تباہی کے دوران میں پیش آیا ہو۔
  • اگر یہ واقعہ کسی اسکول، کام کی جگہ، پناہ گاہ یا کیئر ہوم میں پیش آیا ہو۔
  • اگرمجرم اور متاثرہ شخص ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں۔
  • اگرمتاثرہ شخص سورہا ہے یا بے ہوش ہے۔