.

منشیات سے متعلق بیان پر ایران اور آذربائیجان کے بیچ نیا تناؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور آذربائیجان کے بیچ تعلقات میں جاری کشیدگی کے ضمن میں ایک بار پھر الزامات کا تبادلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے حالیہ بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں علییف نے کہا تھا کہ ایران اور آرمینیا نے سرحدی علاقوں کے راستے ٹنوں کی مقدار میں منشیات یورپ اسمگل کی۔

ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک نے ہفتے کے روز بتایا کہ شمخانی نے اپنی ٹویٹ میں الہام علییف کے الزامات کو جھوٹا اور "شیطانی پھندا" قرار دیا۔

اس سے قبل آذربائیجان کے صدر نے ایک سرکاری کثیر الفریقی اجلاس میں خطاب کے دوران میں کہا تھا کہ ایران اور آرمینیا گذشتہ تیس برسوں تک باہمی تعاون سے آذربائیجان کی مقبوضہ اراضی کے راستے منشیات یورپ بھیجتے رہے۔ اجلاس میں آرمینیا کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ علییف نے باور کرایا کہ ان علاقوں کے آزاد کرائے جانے کے بعد ایران نے آذربائیجان کے دیگر سرحدی علاقوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا۔

آذربائیجان کے صدر نے بتایا کہ منشیات کی تجارت کے علاوہ علاقے میں دہشت گرد جماعتوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس حوالے سے "کافی شواہد" موجود ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران نے آذربائیجان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سامان کی آرمینیا برآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور آرمینیائی ایرانی سرحد کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیل کو ایرانی حدود تک پہنچانے میں مدد کے علاوہ نگورنو کاراباخ کے آزاد کرائے گئے علاقوں کو دہشت گرد جماعتوں کی آماج گاہ بھی بنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں