.

برطانوی رکن پارلیمنٹ کا قاتل صومالی وزیر اعظم کے سابق مشیر کا بیٹا نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے وزیر اعظم کے سابق مشیر حربی علی کلان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے برطانوی شہریت رکھنے والے 25 سالہ بیٹے "علی حربی علی" نے ہی جمعے کے روز برطانوی رکن پارلیمنٹ David Amess کو چاقو کے 17 وار کر کے قتل کر دیا۔ علی حربی اس وقت اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کی حراست میں ہے۔ مقتول رکن پارلیمنٹ اس واقعے کے وقت ووٹروں کے بیچ موجود تھے اور ان کی گزارشات سن رہے تھے۔ یہ بات برطانوی اخبار "Sunday Times" نے آج اتوار کے روز بتائی۔

مذکورہ اخبار کے ایڈیٹر نے گذشتہ روز لندن میں قاتل کے والد سے ملاقات کی۔ حربی علی کلان کے مطابق انہوں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا ،،، اسی لیے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔

سنڈے ٹائمز نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاتل نے انفرادی حیثیت سے شدت پسندی پر مبنی اس فعل کا ارتکاب کیا۔ قاتل Leigh-on-Sea قصبے میں برطانوی رکن پارلیمنٹ کو موت کی نیند سلانے کے بعد جائے حادثہ پر مسلح افسران کے پہنچنے کا انتظار کرتا رہا۔ یہ قصبہ لندن سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پولیس ، سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کا ماننا ہے کہ قاتل انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسندی کی جانب مائل ہوا۔ سیکورٹی اداروں کو اندیشہ ہے کہ اس فعل سے دیگر شدت پسندوں کی بھی اسی نوعیت کے حملوں کے لیے حوصلہ افزائی ہو گی۔

مقتول رکن پارلیمںٹ کی عمر 69 برس تھی۔ وہ ایک بیٹے اور چار بیٹیوں کا باپ تھا۔ وہ 40 برس سے کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ وابستہ تھا۔ سال 2016ء کے بعد ڈیوڈ ایمس وہ دوسرا رکن پارلیمنٹ ہے جس کو ووٹروں سے ملاقات کے دوران میں ہلاک کیا گیا۔ اس سے قبل لیبر پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن جوان ککس کو بھی تقریبا پانچ برس قبل چاقو کے وار سے قتل کر دیا گیا تھا۔