امریکا کی ترکی کو’ایف 35‘ کے بجائے ’ایف16‘ طیارےدینے کی پیش کش
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امریکا نے’ایف 35‘ لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں کی گئی سرمایہ کاری کے بدلے میں انقرہ کو’ایف 16‘ جنگی طیارے فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ امریکی موقف میں تبدیلی ترکی کی جانب سے روس کے فضائی دفاعی نظام’ایس400‘ خریدنے کا نتیجہ بتائی جاتی ہے۔ واشنگٹن انقرہ کو بار بار روسی دفاعی نظام کی خریداری پر خبردار کرچکا ہے۔
امریکا کی طرف سے "نئے F-16‘‘ کا معاملہ" ایف 35‘‘ سے منسلک کیا گیا ہے۔ تاہم ترک صدر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے امریکا کو ایف 35 طیاروں کی خریداری کے عوض 1.4 ارب ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔
ایردوآن نے وضاحت کی کہ نئے جنگی طیاروں کےحصول کی درخواست انقرہ کی دفاعی ضروریات کے پیش نظر کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ امریکا سے کب تک اور کتنے جنگی طیارے خریدنا چاہتے ہیں؟
رائیٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ترکی نے امریکی طیارہ ساز کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ کے 40 نئے’ایف 16‘ لڑاکا طیارے خریدنے اور موجودہ 80 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے امریکا درخواست دی تھی۔
رائیٹرز نے بتایا کہ اربوں ڈالر کے اس سودے میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ کانگریس کی طرف سے منظوری کا انتظار تھا جس نے اسے غیر فعال کر دیا تھا۔
امریکی کانگریس کی جانب سے امریکا سے طیاروں کے حصول کی منظوری میں ناکامی کے بعد تُرکی کو مایوسی ہوئی تھی مگر اس کی وجہ انقرہ کی جانب سے ماسکو سے ’ایس 400‘ فضائی دفاعی نظام کی خریداری کی ڈیل تھی جس پر امریکا ترکی پر سخت برہم ہوگیا تھا۔
انقرہ لاک ہیڈ مارٹن کی طرف سے تیار کیے جانے والے100 ’ایف 35‘ طیاروں کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم سنہ 2019ء کو ترکی میں روس کے ’ایس 400‘ فضائی دفاعی نظام کی تنصیب کے بعد امریکا نے ترکی کو اس پروگرام سے نکال دیا تھا۔
-
شام سے سرحد پارحملوں کے بعد ہرممکن ضروری اقدام کیا جائے گا:ترکی
ترک وزیرخارجہ مولودشاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ’’ترکی اپنی سلامتی کے لیے جو ضروری ...
بين الاقوامى -
روسی لڑاکا طیارے نے سرحد کے نزدیک آنے والے امریکی بم بار طیارے کو دور بھگا دیا
روس کی فوج نے آج اتوار کے روز بتایا ہے کہ اس نے اپنے "مگ 31" لڑاکا طیارے کے ذریعے ...
بين الاقوامى -
امریکا، روس اور اسرائیل کی شام اور ایران کے معاملے پربات چیت کی تیاری
روس میں اسرائیلی سفیرالیگزینڈر بین زوی نے اعلان کیا کہ تل ابیب نے ماسکو اور ...
بين الاقوامى