.

شمالی شام میں ترک فوج کا ’ایس ڈی ایف‘ کے خلاف آپریشن: اپوزیشن ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل سوموار کو شامی اپوزیشن نے انکشاف کیا ہے ترکی ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ (SDF) کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

شامی اپوزیشن کے ایک باخبر ذریعے نے سپوتنک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "ترکی آج منگل کو’ایس ڈی ایف‘ کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی نے شامی حزب اختلاف کے دھڑوں کو آپریشن کی تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ یہ آپریشن شمالی شام میں کئی محاذوں پر شروع ہو گا جس میں اعزاز اور تل ابیض کے مقامات شامل ہیں۔

فوجی آپریشن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر تُرکی شام میں کُرد دھڑوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر آپریشن کیا جا سکتا ہے اور اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔

ترک پارلیمنٹ نے حال ہی میں کثرت رائے سے ترک صدارت کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی منظوری دی ہے جس میں شام اورعراق میں فوجی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کے لیے صدر کو 30 اکتوبر سے شروع ہونے والے اختیارات میں مزید دو سال کے لیے توسیع کی گئی ہے۔

200 فوجی گاڑیاں

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ترک فوج نے شمال مغربی شام کے ادلب کے دیہی علاقوں میں 200 فوجی گاڑیاں جمع کی ہیں۔ راس العین کے علاقے حسکہ کے دیہی علاقوں میں سیکیورٹی کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

ایجنسی نے سول ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ترک قابض افواج کی 200 سے زائد گاڑیاں مخصوص ہتھیاروں، گولہ بارود اور لاجسٹک مواد سے لدی ہوئی تھیں۔ انہیں دو الگ الگ قافلوں کی شکل میں غیر قانونی خربہ الجوز کراسنگ سے شام میں داخل کیا گیا۔ اس کے بعد ترک فوج کی یہ گاڑیاں ادلب کے مختلف علاقوں میں پھیل گئیں۔