.

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے ضخیم منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی حکومت نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے مشرق (عطروت) میں یہودی بستیوں کے مجوزہ ضخیم منصوبے کی منظوری ہر گز نہیں دے گی۔ یہ منصوبہ بیت المقدس کی بلدیاتی انتظامیہ نے پیش کیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" نے ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتائی ہے۔

مذکورہ ذمے دار کے مطابق اسرائیل نے بلدیاتی سطح پر منصوبے کی منظوری کے حوالے سے امریکا کو چند روز قبل واضح کر دیا تھا کہ "حکومت بیت المقدس کی بلدیہ میں مقامی کمیٹی پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتی ہے"۔

اسرائیلی سینئر ذمے دار نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے عطرات میں ایک یہودی محلہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسے رکوا دیا تھا۔

اسرائیلی ذمے دار کے مطابق نیتن یاہو نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے 4 ، 4 ہزار یونٹ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ اس لیے کہ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق یہ علاقہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔

بدھ کے روز عطروت کے علاقے میں بیت المقدس کی اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے یہودی بستی کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ نیا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچنے کی صورت میں مشرقی بیت المقدس میں سب سے بڑا اسرائیلی محلہ شمار ہو گا۔ اس میں 1.243 ایکڑ رقبے پر تقریبا 9 ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے ضمن میں قلندیا گاؤں کے مشرق میں تقریبا 30 فلسطینی رہائشی عمارتوں کے گرانے کے احکامات شامل ہیں۔ یہ عمارتیں صنعتی علاقے اور ہوائی اڈے کے رن وے کے بیچ واقع ہیں۔ ان میں زیادہ تر عمارتوں کی تعمیر 1967ء سے قبل ہوئی اور ان کے پاس اردن کے اجازت نامے ہیں۔ یہ بات فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA نے بتائی۔