جوہری ایران

ایران سے نمٹنے کے لیے اسرائیل خفیہ ہتھیار خرید رہا ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے ایران پر ضرب لگانے کی عملی تیاری تیز کر دی ہے۔ اس بات کا انکشاف اسرائیلی اخبار یدعوت احرونوت کی ویب سائٹ Ynet نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ تل ابیب نے یہ فیصلہ اس سوچ کے ساتھ کیا ہے کہ تہران اور عالمی قوتوں کے بیچ جوہری بات چیت کے نتائج مطلوبہ اہداف کو یقینی نہیں بنا سکیں گے۔ ان اہداف میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں ایران کی سرکشی کو لگام دینا ہے۔

ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف حملے پر عمل کے سلسلے میں اپنی تیاریوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر اسرائیلی فضائیہ کی مشقیں اور معلومات کا اکٹھا کیا جانا جاری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عسکری تیاری کے امور سے متعلق وزارتی کمیٹی نے اتوار کے روز اپنے اجلاس میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کے منصوبے کی منظوری دی۔ منصوبے میں 12کنگ اسٹیلین CH-53K ہیلی کاپٹروں اور آئرن ڈوم کے میزائلوں کا اضافی اسٹاک خریدنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ ایک ارب ڈالر مالیت کے اُس اسٹاک کے علاوہ ہے جس کی گذشتہ ماہ امریکا نے منظوری دی تھی۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے بڑی تعداد میں خفیہ بموں اور نشانے کی درستی کے حامل ہتھیاروں کی خریداری کے واسطے نئے رابطے عمل میں آ رہے ہیں۔ ان تمام ساز و سامان پر خرچ ہونے والی رقم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی عسکری ذمے داران کے نزدیک ایران پر متوقع حملے کے بعد لبنانی ملیشیا حزب اللہ بھی اس معرکے میں شامل ہو جائے گی۔ اسی بنا پر آئرن ڈوم دفاعی نظام کے لیے میزائلوں کی نئی کھیپ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں