لیبیا:سرکاری فنڈزمیں مبیّنہ خردبردکے الزام میں ایک اور وزیرکی گرفتاری کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں استغاثہ نے بدھ کے روز ریاستی فنڈز میں مبیّنہ خردبردکی تحقیقات کے لیے خاتون وزیرثقافت کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔اس اقدام سے ایک ہفتہ قبل وزیر تعلیم کوبھی اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے وزیرثقافت مبروکا طوقی سے پوچھ تاچھ کی ہے اور انھیں سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات میں گرفتارکرنے کا حکم دیا ہے۔پراسیکیوٹرزنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مبروکا طوقی نے مبیّنہ طور پر سرکاری اخراجات کے جائزے کے عمل کوپیچیدہ بنانے کے لیے دستاویزات میں جعل سازی کی تھی۔

اس معاملے کا تعلق وزارت کی عمارتوں کی دیکھ بھال کے کاموں کے معاہدے میں مبیّنہ خردبرد سے ہے۔ان سرکاری عمارتوں کی گذشتہ سال ہی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔

جوہری طبیعیات میں ڈگری کی حامل ماہرتعلیم مبروکا طوقی کو مارچ میں لیبیا کی عبوری اتحادی حکومت میں وزیر مقرر کیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری لیبیا کے وزیرتعلیم موسیٰ المقریف کو اسکول کی کتب کی کمی کی تحقیقات کے لیےحراست میں لیے جانے کے ڈیڑھ ہفتے کے بعد عمل میں آئی ہے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ممکنہ ’’غفلت‘‘کی تحقیقات کررہاہے۔

واضح رہے کہ لیبیا 2011 میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد سے طوائف الملوکی کا شکار ہے۔اس عوامی بغاوت کے نتیجے میں آمرمطلق معمرقذافی کا تختہ تو الٹ گیا تھا لیکن ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا تھا اور گذشتہ ایک دہائی سے ریاستی ادارے ٹوٹ پھوٹ اور بدعنوانی سے دوچار ہیں۔

شمالی افریقا میں واقع لیبیا میں گذشتہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں برسوں کے تنازعات سے نکالنے کی کوشش کے طور پرصدارتی انتخابات ہونے والے تھے لیکن صدارتی امیدواروں میں اختلاف اور متنازع قانونی فریم ورک پر تلخ دلائل کے بعد پولنگ کوغیرمتعیّن تاریخ تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں