ٹیکساس میں لوگوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ،ملزم کا عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر کولیویل میں پولیس ایک ایسے شخص کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے جس نے بظاہر ایک یہودی عبادت گاہ میں کم از کم تین افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے اغوا کار شخص کے ساتھ مذاکرات میں ایک مغوی کو بازیاب کرالیا ہے۔ بازیاب ہونے والے شخص کی صحت ٹھیک ہے اور اسے کسی قسم کی طبی امداد کی ضرورت نہیں

پولیس محمد صدیقی نامی شخص کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے جس نے امریکا میں امریکی فوجی اور ایف بی آئی ایجنٹ کے قتل میں ملوث اپنی 85 سالہ قید کے تحت پابند سلاسل بہن [عافیہ صدیقی] کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو یہاں ہونے والی عبادت کو لائیو سٹریم کیا جا رہا تھا۔ تاہم اس لائیو سٹریم فیڈ کو اب ہٹا دیا گیا ہے لیکن ایسا ہونے سے قبل ایک شخص کو اونچی آواز میں یہ کہتے سنا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ یہ عبادت گاہ مغربی ڈالاس سے 40 کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔ ملزم نے تین عبادت گذاروں اور یہودی معبد کے ایک ربی کو بھی یرغمال بنایا۔

کولیویل کی پولیس کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل جاری کردہ بیان کے مطابق پانچ بجے کے بعد اس شخص کی جانب سے ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا ہے جو صحیح سلامت ہے۔ جبکہ ایف بی آئی کے اہلکار تاحال اس شخص سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہیں۔‘

پولیس کے مطابق ’قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ عبادت گاہ میں اور لوگ بھی موجود ہیں لیکن کسی کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے کوئی اطلاع موجود نہیں ہے۔ تاحال اس بارے میں وضاحت نہیں ہے کہ یہ شخص مسلح ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دو اہلکاروں نے آغاز میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اس وقت عبادت گاہ میں راہب سمیت کم سے کم چار افراد موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جین پساکی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کو ’ڈیلاس کے علاقے میں ہونے والے اس واقعے کی بدلتی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔‘

اسرائیل کے وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'میں نے کولیویل، ٹیکساس کے کانگریگیشن بیتھ اسرائیل میں یرغمال بنانے کے واقعے کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم یرغمال بنائے گئے افراد اور ان کو ریسکیو کرنے والوں کے تحفظ کے لیے دعاگو ہیں۔'

کولیویل کے محکمہ پولیس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ پر ایک ’سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (سواٹ) آپریشن‘ کر رہی ہے۔

ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم آپ سے درخواست کریں گے کہ آپ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔ ہم آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے باخبر رکھیں گے۔‘

عافیہ صدیقی کا بھائی ہونے کا دعویٰ

اگرچہ وہ واضح طور پر یہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا کہ آدمی کیا چاہتا ہے، کولمبس کا خیال تھا کہ وہ شخص اپنی بہن سے بات کرنا چاہتا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک امریکی اہلکار نے ’اے بی سی‘ نیوز کو بتایا کہ ہائی جیکر محمد صدیقی پاکستانی نیورو سائنسدان عافیہ صدیقی کا بھائی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو 2010 میں فوجیوں اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو گولی مارنے کے جرم میں سزا پانے کے بعد امریکہ میں 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے۔اس نے خاتون کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن اہلکار نے واضح کیا کہ حکام نے ابھی تک اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کی۔

عافیہ صدیقی کو فورٹ ورتھ کے علاقے کی وفاقی جیل میں رکھا گیا ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "یہود مخالف امریکی یہودیوں پر ایک عبادت گاہ میں نماز ادا کرنے والا یہ تازہ ترین حملہ خالص برائی کا عمل ہے۔"

کولمبس نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا عبادت گاہ میں عبادت گزاروں کو پہلے کوئی سنگین دھمکیاں ملی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس عملے میں کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں ہے لیکن ہمارے پاس وہ ہے جو میں کہہ سکتا ہوں کہ مقامی پولیس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

فیس بک پر صبح ہونے والی عبادت کی لائیو سٹریم کے دوران ایک شخص کو اونچی آواز میں بولتے سنا جا سکتا ہے۔ وہ اس دوران کہہ رہے ہیں ’میری بہن سے فون پر میری بات کروائیں‘ اور ’میں مر جاؤں گا‘۔

بیری کلومپس جو سنہ 1999 میں اس عبادت گاہ کے قیام کے بعد سے اس کے اراکین میں سے ہیں نے کہا کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں ایک اور رکن کی جانب سے بتایا گیا اور انھوں نے فوراً لائیو سٹریم لگا لی۔

مقبول خبریں اہم خبریں