امریکا نے یوکرین میں سفارتی عملے کے اہل خانہ کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا نے روسی فوجی کارروائی کے مسلسل خطرے کے پیش نظر کیف میں اپنے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو یوکرین چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے ملک میں موجود تمام امریکی شہریوں پر بھی ملک سے نکل جانے پر غور کرنے کو کہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے 23 جنوری اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف میں موجود اپنے سفارت کاروں کے تمام اہل خانہ سے ملک چھوڑ کر وطن واپس لوٹ آنے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے، ''روسی فوجی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خطرات'' اور کووڈ 19کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو یوکرین کے سفر سے بھی باز رہنے کو کہا ہے۔

سفر سے متعلق اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایڈوائزری میں، محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات ہیں کہ روس یوکرین کے خلاف اہم فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
دارالحکومت کیف میں سفارت خانے کے عملے کے اہل خاندان کی روانگی کا حکم دینے کے ساتھ ہی واشنگٹن نے سفارت خانے کے دیگر ملازمین کو بھی وہاں سے رضاکارانہ طور پر روانگی کی اجازت دے دی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان ملازمین کے سفری اخراجات بھی حکومت نے اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ''سیکورٹی کی صورت حال، خاص طور پر یوکرین کی سرحدوں کے پاس، روس کے زیر قبضہ کرائمیا اور روس کے زیر کنٹرول مشرقی یوکرین میں، غیر یقینی ہے اور بہت جلد بگڑ بھی سکتی ہے۔''بیان میں مزید کہا گیا، ''احتجاجی مظاہرے، جو بسا اوقات پر تشدد ہو جاتے ہیں، کیف سمیت پورے یوکرین میں باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں۔''

خبر رساں ادارے اے پی نے محکمہ خارجہ کے اہلکاروں کا حوالے سے اطلاع دی ہے کہ کیف میں امریکی سفارت خانہ کھلا رہے گا اور اس اعلان کا مطلب یوکرین سے انخلا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام یوکرین کے لیے امریکی حمایت میں نرمی کا عکاس نہیں ہے اور اس معاملے پر کچھ وقت پہلے سے ہی غور کیا جا رہا تھا۔

اتوار کو ہی دیر رات میں محکمہ خارجہ نے روس کے لیے بھی اپنی ایڈوائزری دوبارہ جاری کی، جس میں امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ، ''یوکرین کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی'' کے سبب وہاں کے سفر سے گریز کریں۔ اس میں امریکی شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ زمینی راستے سے روس سے یوکرین کا سفر نہ کریں۔

روس نے یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں فوج تعینات کر رکھی ہے جس پر مغربی ممالک اور یوکرین میں خدشات پائے جاتے ہیں اور اسی تناظر میں امریکا کے یہ اعلانات سامنے آئے ہیں۔ ہفتے کے روز، برطانوی دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس یوکرین میں ایک روس نواز رہنما کو اقتدارپر فائز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ماسکو نے اس دعوے کو ''غلط معلومات'' پر مبنی قرار دیا ہے۔

جرمنی کی وزیر دفاع کرسٹینا لامبریشٹ نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ جرمنی یوکرین کو ہتھیار نہیں فراہم کرے گا۔ امریکا اور روس کے درمیان گزشتہ جمعے کو اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی تاہم اس معاملے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں