روسی خلائی ایجنسی Roscosmos کے ڈائریکٹر جنرل دمتری روگوزن نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی پابندیاں روس کے ساتھ خلائی شعبے کے تعاون پر اثر انداز ہوئیں تو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) اپنے مدار سے نکل کر کنٹرول سے باہر ہو سکتا ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق یہ انتباہ روگوزن کی جانب سے جمرات کی شام سلسلہ وار ٹویٹس میں اور ان کے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک وڈیو میں سامنے آیا ہے۔
روگوزن کے مطابق اگر مذکورہ خلائی اسٹیشن کو چلانے کے لیے تعاون ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکیوں نے مزید تعاون سے انکار کر دیا تو پھر اس اسٹیشن کو بے قابو ہو کر گرنے سے کون بچائے گا جب کہ یہ امریکی یا یورپی اراضی میں گر سکتا ہے؟
روگوزن نے نے کہا کہ ISS کا وزن 500 ٹن ہے اور یہ روسی اراضی کے اوپر نہیں گزرتا ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی خلا نورد اور ناسا کے ترجمان Garrett Reisman نے اس سلسلے میں امریکی نیوز چینل CNN سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ "امریکی خلائی ایجنسی ناسا خلائی اسٹیشن کے حوالے سے روس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے باور کرایا کہ نئی پابندیاں شہری خلائی شعبے میں روسی امریکی تعاون کے تقاضوں پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS میں اس وقت 7 خلا نوردوں پر مشتمل ٹیم موجود ہے۔ ان میں 4 امریکی، 2 روسی اور ایک جرمن ہے۔
-
نیٹو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تعینات کی جانے والی "رسپانس فورس" کیا ہے؟
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے اتحاد "نیٹو" کے سکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ کا ...
بين الاقوامى -
یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کا تیسرا روز، کیف پر پھر سے بم باری
یوکرین میں آج ہفتے کے روز روس کے فوجی آپریشن کا تیسرا روز ہے۔ دن کی ابتدا میں ہی ...
بين الاقوامى -
روس اور یوکرین کے درمیان ترکی کی ثالثی: مفادات، مقاصد اور رکاوٹیں
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کئی مہینوں سے روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کا کردار ...
بين الاقوامى