روس اور یوکرین کے درمیان ترکی کی ثالثی: مفادات، مقاصد اور رکاوٹیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کئی مہینوں سے روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ روز یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد دوبارہ ایسا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن کیا ترک صدر اس میں کامیاب ہو پائیں گے؟ اس مقصد کے حصول اور اس میں ترکی کیا مفادات ہوسکتے ہیں؟

ترکی کے ایک ہی وقت میں روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ آج ماسکو اور کیف کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترک مقامی لوگوں کے مطابق ترکی روسی فوجی کارروائی کو امریکا، یورپی یونین اور "نیٹو" کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے "ایک اچھے اور سازگار موقعے" کے طور پر دیکھتا ہے۔

بین الاقوامی امور اور ترکی کے خارجہ تعلقات میں مہارت رکھنے والے ایک ترک تجزیہ کار نے کہا کہ انقرہ کو روس کے جاری فوجی آپریشن میں امریکا، یورپی یونین کے ممالک اور نیٹو کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے کا ایک اچھا موقع مل رہا ہے ۔ پچھلی دہائی میں مغرب کے ساتھ کی قیمت پر ترکی نے ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔اس لیے ترکی پوزیشن اب تک مبہم نظر آتی ہے۔ اس نے فوجی آپریشن کی واضح مذمت کے باوجود تنازعہ کے فریقوں میں سے کسی ایک کی براہ راست حمایت کا اعلان نہیں کیا۔

ایک معروف ترک تجزیہ کار ہدیہ لاونت نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں مزید کہا کہ انقرہ اب بھی مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کی بنیاد پر روسی فوجی کارروائی کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پس منظر میں ترک صدر اس بحران میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ماسکو ترکی کو یوکرین کےلیے جانب دار کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ کیف نے جس نے ڈرون سمیت ترک ساختہ ہتھیار حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی نے عوامی طور پر اس بات کی نشاندہی نہیں کی ہے کہ وہ ماسکو اور کیف کے درمیان موجودہ تنازعہ میں کس فریق کی حمایت کرتا ہے، لیکن روسی فریق اور مغربی ممالک اسے بعد میں سفارتی حکمت عملی کے ذریعے ایک سخت اور واضح موقف اختیار کرنے کے لیے دھکیل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی ترکی کی کوششیں انقرہ کے لیے صحیح وقت پر آئیں، جب کہ اس کے امریکا، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ تعلقات گزشتہ دس سالوں میں خراب رہے ہیں۔ کچھ نیٹو رکن ممالک پہلے ہی اس اتحاد کے رکن کے طور پر ترکی کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ اس لیے ترک حکومت کے لیے ثالثی بہت اہم ہے۔

ترک تجزیہ کار کے مطابق ترکی کے لیے "چیلنجز" ثالث کا کردار ادا کرنے میں مضمر ہیں۔ ماسکو کے خلاف مغربی پابندیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن کا تعین کرنے کے حوالے سےترکی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ ترکی کے روس اور کیف دونوں کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبوں میں ترکی کے مفادات زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ترکی کے لیے اس وقت یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ موجودہ بحران میں ماسکو، کیف یا مغرب میں سے کس کے ساتھ کھڑا ہو۔

اس سلسلے میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا انقرہ ماسکو کے خلاف پابندیوں میں مغرب کا ساتھ دے گا یا کئی وجوہات کی بنا پر اس سے گریز کرے گا۔ خاص طور پر یہ کہ روسی فریق ترکی کو توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی بڑی حد تک سیاحوں پر انحصار کرتا ہے۔ روسیوں اور یوکرینیوں کے علاوہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان شام اور لیبیا کے بحران اور بحیرہ روم کے توانائی کے مسائل بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ترکی متوازن پالیسی اختیار نہیں کرتا تو روسی فوجی آپریشن انقرہ کے لیے بہت مہنگا بن سکتا ہے۔ کیونکہ انقرہ اور ماسکو کے درمیان اقتصادی روابط ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر کے مطابق ترک صدر کی تمام تر کوششوں کے باوجود ماسکو اور کیف کے درمیان ثالثی میں ترکی کی کامیابی کو مسترد کر دیا۔

ترکی کے معروف دانشور اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسرحسین باغجی نے زور دے کر کہا کہ ایردوآن کی انتھک کوششوں کے باوجود روس انقرہ کے اپنے اور کیف کے درمیان ثالث کے طور پر داخلے کو قبول نہیں کرے گا۔

باغجی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ "ماسکو اسے مسترد کر دے گا کیونکہ اس کا مقصد کیف میں موجودہ حکومت کا تختہ الٹنا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی ترکی کی کوششوں کے باوجود اس کے ساتھ بات چیت کرنا ناممکن ہے۔

ترکی کے روس اور یوکرین کے ساتھ ایک ہی وقت میں قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کے علاوہ انقرہ کے ماسکو اور کیف کے ساتھ مشترکہ اقتصادی مفادات ہیں جن میں خاص طور پر توانائی اور اشیائے خوردونوش کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ گذشتہ سال انقرہ نےاپنی ضرورت کی گندم کا 80 فی صد کوٹا یوکرین سے حاصل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں