’امید ہے ہاتھ پاؤں سے معذور بیٹا ورلڈ کپ جیت جائے گا‘
پیدائشی معذور سعودی نوجوان نے کھیلوں سے معذوری کو کیسے شکست دی؟
پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پاؤں سے معذور افراد کے لیے زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے مگر سعودی عرب کے ایک نوجوان نے خطرناک معذوری کو اپنی ہمت سے شکست دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ معذوری کسی مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
معذور سعودی نوجوان عبداللہ السمکری اعضاء پر کنٹرول کھو جانے کے باوجود مدینہ منورۃ کلب برائے معذورین کا رکن بنا اور بوکیا کھیل میں سرگرم رہا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عبداللہ السمکری نے کئی چیمپئن شپ حاصل حاصل کیں۔
اس نوجوان نے ایشین یوتھ پیرا اولمپک گیمز کے چوتھے ایڈیشن اور بحرین میں بوکیا کیٹیگری "BC3" میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اب وہ دوسرے ٹورنامنٹس میں داخلے کے لیے تربیت کے ذریعے تیاری کر رہا ہے۔اس نے کھیلوں کی بہت سی کامیابیاں حاصل کیں مگر اس کی کامیابی کے پیچھے اس کی محنت اور مسلسل مشق ہے۔
کامیابی پر اصرار
السمکری کی والدہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ عبداللہ نے اپنی معذوری اور اپنی نقل و حرکت کی مشکلات کے باوجود خود کو ثابت کرنے اور اپنا مستقبل بنانے کے لیے کام کیا۔ اس کی ثابت قدمی اس کی کامیابی کی وجہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ عبداللہ سے بڑی اس کی چھ بہنیں ہیں۔وہ بچے کے لیے بہت زیادہ پرجوش تھیں مگربچے کی صحت کے لیے الٹرا ساؤنڈ نہیں کرایا۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اسے دیکھ کر ہم سکتے میں آ گئے کیونکہ اس کے ہاتھ تھے اور نہ پاؤں۔
معذور سعودی کھلاڑی کی ماں کا کہنا تھا کہ نومولود معذور کو دیکھ کر میری دنیا تاریک ہو گئی اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اس بچے کی پرورش کیسے کروں گی؟ میں اس کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھی۔
ماں نے بتایا کہ میں نے معذور بچے کو یہ سکھانے کی کوشش کی کہ اسے معاشرے میں لوگوں سے کیسے چلنا ہے۔
علاج معالجہ
علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس دور کو مشکل قرار دیتے ہوئے خاتون نےکہا کہ وہ اپنے بیٹے کو 4 سال کی عمر میں علاج کے لیے سویڈن لے گئی تاکہ مصنوعی اعضاء لگائے جائیں۔
اس کے علاج میں کامیاب نہیں ہوسکیں کیونکہ وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور اسے اس کے علاج کا کوئی موقع نہیں ملا۔
آخر میں میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ علاج کرنے کا بہترین طریقہ ایک عام زندگی ہے۔ اس کے ساتھ ایک عام شخص کی طرح سلوک کرنا چاہیے جو اکیلے کھاتا، پہنتا اور بیٹھتا ہے۔ اپنی بہنوں کی مدد سے اس پر بہت اثر پڑا۔
کھیل کیریئر
عبداللہ السمکری کے کھیلوں کے کیریئر کے بارے میں معذور نوجوان کی ماں نے کہا کہ اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب اس کی ملاقات مدینہ کلب برائے معذور افراد کے ڈائریکٹر سے ایک تقریب میں ہوئی۔ اس نے معذور افراد کے لیے بوکیا گیم میں حصہ لیا اور تربیت حاصل کی جہاں اس نے کنگڈم کپ جیتا۔
اس نے مزید کہا کہ عبداللہ نے ایشین کپ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ وہ اس کھیل میں ورلڈ کپ جیتنے کی امید رکھتی ہیں۔