ایران

اربیل حملے میں میزائل ایران سے داغے گئے: امریکی ذمے داران کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج اتوار کے روز شمالی عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل اور وہاں موجود امریکی قونصل خانے کو 12 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل عراق کے باہر سے داغے گئے تھے۔

امریکی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ میزائل ایران سے داغے گئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزائل حملے میں امریکی قونصل خانے کے زیر تعیر کمپاؤنڈ یا کسی امریکی کو نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سینئر ریپبلکن رکن مارکو روبیو نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ یہ بم باری، شام میں اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے دو افسران کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔ اسرائیلی حملہ گذشتہ ہفتے ہوا تھا۔

مارکو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ تہران کئی ماہ سے عراق میں اپنی ایجنٹ شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے امریکی افواج اور مفادات کے خلاف حملے کر رہا ہے۔ اس کا مقصد عراق سے امریکی فوجی اور سفارتی اہل کاروں کے مکمل کوچ کا عمل تیز کرنا ہے۔

جنوری 2020ء میں بغداد ہوائی اڈے کے نزدیک ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سے عراق میں امریکی مفادات کو درجنوں کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں راکٹوں اور ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں