سعودی عرب میں گھروں کی چھتوں اور روغنِ قطران کے لیے استعمال ہونے والا درخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں طائف کے جنوب میں بنو مالک کا علاقہ اپنے پہاڑوں اور وادیوں میں "العتم" کے درختوں کے سبب مشہور ہے۔ یہ علاقہ میسان ضلع میں واقع ہے۔ بڑی عمر کے ان درختوں پر بے تحاشا پتے ہوتے ہیں جو ہمیشہ سرسبز رہتے ہیں۔ ان درختوں کا سایہ کافی پھیلا ہوا ہوتا ہے اور یہ درخت موسم کی سختیوں کو بھرپور طریقے سے جھیلتے ہیں۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق العتم درخت کی لکڑی ٹھوس اور اعلی معیار کی ہوتی ہے۔ اس سے بہترین "مسواک" بھی بنتی ہے۔ علاقے کی آبادی اس درخت سے کئی طریقوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اسے پتھروں سے بنے گھروں کی چھتوں کے سہارے کے لیے بھی کام میں لایا جاتا ہے۔ اس درخت کی لکڑی سے "روغنِ قطران" نکالا جاتا ہے۔ یہ سیاہ تیل انگریزی میں CADE oil کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تیل کا زیادہ استعمال کشتیوں کی مرمت اور جانوروں کے علاج میں ہوتا ہے۔

من واس

ایک مقامی کاشت کار محمد المالکی کے مطابق "العتم" کا درخت علاقے میں پہاڑوں پر پھیلے اہم ترین درختوں میں سے ہے۔ یہ اپنے سر سبز ہونے اور متعدد فوائد کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی اونچائی درمیانی اور پتے چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ موسم اور ماحول کے مشکل ترین حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔ یہ زیتون کے درخت سے ملتا جلتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں