شامی فوج نے شمالی شام پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کر لیا
نئی حکومت کے اقدامات سے کرد اقلیت غیر مطمئن
شام کی فوج نے ملک کے شمال میں ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے کرد افواج کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا ہے جس پر انہیں ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے مؤثر خود مختاری حاصل تھی۔
صدر احمد الشرع کی جانب سے کرد کو "قومی زبان" قرار دینے اور اقلیتی گروپ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا حکم جاری کیا گیا جس کے بعد حکومت کردوں کے زیرِ انتظام علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتی نظر آ رہی ہے۔
کردوں نے کہا ہے کہ جمعے کا اعلان ان کی خواہشات کے مطابق نہیں تھا۔
مارچ کا معاہدہ جس کا مقصد کرد افواج کو ریاست میں ضم کرنا تھا، پر عمل درآمد موقوف ہو جانے کے بعد فوج نے پیش قدمی کی۔
حکومتی فوجیوں نے گذشتہ ہفتے حلب کے دو محلوں سے کرد افواج کو نکال دیا اور ہفتے کے روز شہر کے مشرق میں ایک علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
اتوار کو حکومت نے رقّہ کے علاقے میں الطبقۃ شہر پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے کہا، "شام کی فوج رقہ کے دیہی علاقوں میں فوجی اہمیت کے حامل شہر الطبقۃ کو کنٹرول کر رہی ہے جس میں شام کا سب سے بڑا فرات ڈیم شامل ہے۔"
حلب شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) مشرق میں دیر حافر میں اے ایف پی کے نمائندے نے کردوں کی زیرِ قیادت افواج کے کئی باغیوں کو شہر سے نکلتے ہوئے اور فوج کی بھاری نفری کی موجودگی میں علاقہ مکینوں کو واپس لوٹتے دیکھا۔
شامی فوج نے کہا کہ چار فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ کرد افواج نے متعدد باغیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر انخلا کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
فوج نے دریائے فرات کے جنوب مغرب میں ایک علاقے کو "بند فوجی زون" کے طور پر نامزد کر دیا اور کئی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا انتباہ دیا جس کے بعد کرد حکام نے رقہ کے علاقے میں کرفیو کا حکم دے دیا۔
سانا کے ایک نمائندے نے اتوار کو اطلاع دی کہ ایس ڈی ایف نے رقہ شہر میں فرات پر دو پلوں کو دھماکے سے اڑا دیا جو دریا کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔
رقہ شہر کو پانی کی رسد بھی مبینہ طور پر منقطع کر دی گئی۔ شہر کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ نے ایس ڈی ایف پر پانی کے مین پائپوں کو اڑا دینے کا الزام لگایا۔
دیر الزور کے گورنر غسان السید احمد نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایس ڈی ایف نے دیر الزور کے مرکز، المیادین اور دیگر علاقوں میں حکومت کے زیرِ کنٹرول محلوں پر "راکٹ پروجیکٹائل" فائر کیے۔
ایس ڈی ایف نے اپنی طرف سے کہا کہ "دمشق حکومت سے وابستہ دھڑوں نے غرانیج، ابو حمام، الکیشکیہ، الدھیبان اور الطیانہ کے قصبات میں ہماری افواج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جو تاحال جاری ہیں۔"
'دھوکہ دیا'
جمعہ کو شامی کرد رہنما اور ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی نے حلب کے باہر سے لے کر فرات کے مشرق تک اپنی افواج کو دوبارہ تعینات کرنے کا عہد کیا تھا۔
لیکن ایس ڈی ایف نے ہفتے کے روز کہا کہ دمشق نے "حالیہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور ہماری افواج کو دھوکہ دیا ہے"۔
فوج نے ایس ڈی ایف پر زور دیا کہ وہ "اپنے اعلان کردہ وعدے فوراً پورے کرے" اور دریا کے مشرق میں "مکمل پسپا ہو جائے"۔
امریکی مرکزی کمان نے ہفتے کے روز شامی حکومتی افواج پر زور دیا کہ وہ "حلب اور الطبقہ کے درمیانی علاقوں میں کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائیاں بند کر دیں۔"
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور عراقی کردستان کے رہنما نیچروان بارزانی نے بھی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی پر زور دیا۔
صدارتی فرمان
الشرع کا جمعہ کو اعلان 1946 میں شام کی آزادی کے بعد سے کردوں کے حقوق کو پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی علامت ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا، کرد شام کا "ایک ضروری اور ناگزیر حصہ" ہیں جہاں وہ کئی عشروں سے پسماندگی کا شکار ہیں۔
اس حکم نامے سے کرد ایک "قومی زبان" بن گئی اور تمام کردوں کو قومیت مل گئی ہے جن میں سے تقریباً 20 فیصد کو 1962 کی ایک متنازعہ مردم شماری کے تحت اس سے محروم کر دیا گیا تھا۔
شام کے شمال مشرق میں کرد انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ فرمان "پہلا قدم" ہے لیکن "شام کے عوام کی امنگوں اور امیدوں کو پورا نہیں کرتا۔"
ہفتے کے روز ہی امریکی فوج نے کہا کہ شمال مغربی شام میں حملے میں ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گیا جس کا تعلق گذشتہ ماہ تین امریکیوں پر کیے گئے مہلک حملے سے تھا۔
-
امریکہ نے غزہ میں امن کونسل کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا، وٹکوف اور کشنر شامل
نکولے ملادی نوف غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے اور جاسپر جیفرز پٹی میں استحکام فورس کے ...
مشرق وسطی -
شامی فوج حلب کے مشرق میں داخل... ڈیموکریٹک فورسز کے سینکڑوں اہل کاروں نے ہتھیار ڈال دیے
سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے انخلا کے ساتھ ہی، شامی فوج نے آج ہفتے کے روز ...
مشرق وسطی -
امریکہ کے ہاتھوں القاعدہ سے وابستہ رہنما ہلاک،شام میں دسمبر کے حملے سے منسلک تھا:سینٹ کام
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوجی دستوں ...
مشرق وسطی