روس اور یوکرین

روسی حملوں سے یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی متاثر نہیں ہو گی: امریکی محکمہ دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ روسی حملوں سے یوکرین کو ہتھیاروں اور امدادی رسد میں خلل نہیں پڑے گا۔

وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پولینڈ کی سرحد کے قریب یاوریو اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھا جس پر کل روس نے بمباری کی تھی۔

ایک امریکی اہلکار نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ یوکرین کے فوجی اڈے پر اتوار کو ہونے والے حملے کا کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

اتوار کے روز روسی وزارت دفاع نے مغربی یوکرین میں یاوریو بیس پر ایک تربیتی مرکز پر حملے کا اعلان کیا۔

بیرون ملک فراہمی

روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ اس سہولت تک بیرون ملک سے ہتھیاروں کے ذریعے رسائی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے اندر موجود غیر ملکی ہتھیاروں کی بڑی مقدار کو تلف کردیا گیا۔

دریں اثنا العربیہ/الحادث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ روس کو شبہ ہے کہ یہ اڈہ جو کہ امن فوجیوں کا تربیتی مرکز تھا یوکرینی افواج کو مغربی ممالک اور نیٹو سے ہتھیار فراہم کرنے کی جگہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

ملٹری ٹریننگ کی سہولت ملک کے مغربی سیکٹر میں سب سے بڑامرکز ہے جسے عام طور پر نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اڈا پولینڈ کی سرحد سے 25 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 24 فروری کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے کیف میں حکام ملک میں نو فلائی زون نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم نیٹو جس کے ماسکو کے ساتھ تعلقات گذشتہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی تناؤ کا شکار ہیں یوکرین کی اس درخواست کو ایک سے زیادہ بار مسترد کر دیا۔ نیٹو کو خدشہ ہے کہ یوکرین میں نو فلائی زون کے قیام سے روس یوکرین جنگ وسعت اختیار کر جائے گی اور جس کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں