یواے ای، بحرین اور مصر کے وزرائے خارجہ کی علاقائی اجلاس میں شرکت کے لیے اسرائیل آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان، بحرینی وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی اور مصری وزیرخارجہ سامح شکری اتوار کے روز پانچ فریقی علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے سرکاری ٹویٹراکاؤنٹ پران تینوں وزرائے خارجہ کی آمد کی اطلاع دی گئی ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن پہلے ہی اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ وہ اور متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور مصر کے وزرائے خارجہ اتوار اور پیر کواسرائیل میں ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔

بحرینی وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی اسرائیل میں علاقائی اجلاس میں شرکت کے لیے ہوائی اڈے سے باہرآرہے ہیں۔
بحرینی وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی اسرائیل میں علاقائی اجلاس میں شرکت کے لیے ہوائی اڈے سے باہرآرہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020ء میں امریکا کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔اسے معاہدۂ ابراہیم کا نام دیاجاتا ہے۔اس معاہدے میں ایک اہم محرک ایران کے جوہری خطرے اور علاقائی ممالک میں اس کی گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت سے نمٹنا تھا۔

مراکش نے بھی گذشتہ سال ان دونوں ممالک کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرلیے تھے۔

مصر، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے رہ نماؤں نے گذشتہ منگل کے روزبحیرہ احمر کے کنارے واقع تفریحی مقام شرم الشیخ میں ملاقات کی تھی اور یوکرین پر روس کے حملے کے اقتصادی اثرات اور ایران کے اثرورسوخ پر بات چیت کی تھی۔واضح رہے کہ اس وقت واشنگٹن کے خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے عزم پرغیریقینی صورت حال پائی جاتی ہے۔

یادرہے کہ اسرائیل اورمصر نے 1979 میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدے پر دست خط کیے تھے اورمصر اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے والا پہلا عرب ملک تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں