امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک سب وے اسٹیشن پر فائرنگ کے واقعے میں 13افراد زخمی ہوگئے ہیں۔حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ’’متعدد غیردھماکا خیزآلات‘‘برآمد ہوئے ہیں۔
نیویارک پولیس کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ منگل کی صبح 8 بج کر27 منٹ (1227 جی ایم ٹی) پر بروکلین سب وے میں گولی لگنے سے زخمی ہونے والے ایک شخص نے 911 پرکال کی تھی اور پولیس افسروں کو واقعے کے بارے میں بتایا تھا۔
شہر کے محکمہ آگ (فائرڈیپارٹمنٹ) نے فائرنگ کے واقعے میں زخمیوں کی تعداد13 بتائی ہے جبکہ اے بی سی نیوز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 36ویں اسٹریٹ سب وے اسٹیشن پرپانچ افراد کو گولیاں ماری گئی ہیں۔
محکمہ پولیس نے ایک ٹویٹ میں لوگوں سے اپیل کی ہےکہ وہ علاقے سے دوررہیں۔اس نے عینی شاہدین زور دیا ہے کہ اگر ان کے پاس واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات ہیں تو وہ پولیس سے رابطہ کریں۔
اے بی سی نیوز نے خبردی ہے کہ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دھویں چھوڑنے والے کسی آلے سے دھماکا کیا گیا ہے اور پولیس مشتبہ شخص کی تلاش میں ہے۔
این بی سی کے مطابق نیویارک پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کے مطابق گیس ماسک اور نارنجی تعمیراتی واسکٹ میں ملبوس ایک شخص نے رش کے اوقات میں ہجوم کی توجہ ہٹانے کے لیے پلیٹ فارم پر دھوئیں کا کنستر پھینکاتھا۔
بندوق تشدد (گن وائلنس آرکائیو)ویب سائٹ کے مطابق آتشیں ہتھیاروں سے فائرنگ سے امریکامیں ہلاکتوں کے واقعات عام طور پررونما ہوتے رہتے ہیں اور آتشیں اسلحہ سےایک سال میں قریباً 40,000 اموات ہوتی ہیں۔ ان میں خودکشیاں بھی شامل ہیں۔
نیویارک میں فائرنگ کا یہ واقعہ امریکی صدرجوبائیڈن کی جانب سے بندوقوں پر قابو پانے کے نئے اقدامات کے اعلان کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔انھوں نے نام نہاد’’گھوسٹ بندوقوں‘‘پر پابندیاں بڑھا دی ہیں۔
امریکیوں کی اکثریت کی جانب سے زیادہ کنٹرول کے باوجود بندوق اٹھانے کے نرم قوانین اورآئینی طور پر ہتھیار اٹھانے کے حق نے باربارزیرگردش ہتھیاروں کی تعداد پر قابو پانے کی کوششوں کوناکام بنادیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں قتل عام کے تمام واقعات میں تین چوتھائی بندوقوں کے استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں اور فروخت ہونے والے پستولوں، ریوالوروں اور دیگرآتشیں اسلحہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔