اردن سے کویت اور بحرین تک: ایرانی میزائل روکنے کے دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں اور بحرین، کویت اور اردن میں فوجی مقامات کو نشانہ بنانے والے ایران کے جوابی حملوں کے بعد، اردن کی مسلح افواج نے تصدیق کی کہ انہوں نے ایران سے ازراق ایئر بیس کی طرف داغے گئے پانچ میزائل مار گرائے ہیں۔

بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں، اردنی فوج نے واضح کیا کہ میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے کسی قسم کے زخمی یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

"دشمنانہ" اہداف کو روکنا

ادھر کویتی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے ایئر ڈیفنس سسٹمز نے "دشمن کے فضائی اہداف" کو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔ فوج کے جنرل اسٹاف نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ "کویتی فضائی دفاعی نظام نے قائم آپریشنل طریقہ کار کے مطابق دشمن کے فضائی اہداف کو روکا"۔

بیان میں "متعلقہ حکام کی طرف سے عوام کو جاری کردہ حفاظتی ہدایات اور رہنما خطوط پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔"

ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کویت کے ہوائی اڈے کے قریب دھواں اٹھ رہا ہے - 25 مارچ 2026 (اے ایف پی)
ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کویت کے ہوائی اڈے کے قریب دھواں اٹھ رہا ہے - 25 مارچ 2026 (اے ایف پی)

تہران کی جانب سے حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرینی مملکت کو نشانہ بنانے کے اعلانات کے بعد بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں اور رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ قریبی محفوظ مقام پر پناہ لیں۔

"تمام میزائل ناکارہ بنا دیے گئے"

ادھر دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً تمام ایرانی میزائل اور ڈرونز کامیابی سے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیے گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ فی الحال امریکی افواج کے کسی اہلکار کے زخمی یا امریکی تنصیب کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران میں تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں، پاسداران انقلاب نے مزید کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں "کچلنے والے اور فیصلہ کن" جواب کے لیے اپنی تیاری پر زور دیا۔

یاد رہے حالیہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے منگل کی شام ایرانی ساحلی علاقوں پر فضائی حملے شروع کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔

ایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر مشکوک ہو گئیں۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بندش کا شکار ہو چکی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی فوج نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاع، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور ریڈار کی نگرانی کے مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس آپریشن کو امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے تازہ ترین حملوں کا ایک "متناسب ردعمل" قرار دیا۔

ایران کا جزیرہ قشم
ایران کا جزیرہ قشم

ایران نے تصدیق کی ہے کہ جزیرہ قشم، ساحلی شہر سرک اور آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب صوبہ جاسک کو نشانے بنانے والے امریکی حملوں کا سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔

ادھر بندر عباس اور بعد میں جسک کے آس پاس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

امریکی صدر نے گذشتہ روز 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب پہنچنے کی امید ظاہر کی تھی جب کہ دوسری جانب دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم امریکی حکام کی جانب سے یہ دعوی سامنے آیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کا مذاکرات یا تصفیے کے حل کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، تاہم مذاکرات کے مستقبل سے متعلق کوئی بات یقین سے کہنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں