کیا بورس جانسن پارٹی گیٹ سے ’فرار‘ کے لیے بھارت کا دورہ کر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اپنے دو روزہ بھارتی دورے پر جمعرات کی صبح گجرات پہنچے اور سب سے پہلے ریاستی دارالحکومت احمد آباد کا دورہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران بہت سارے تجارتی معاہدوں کا اعلان کریں گے، جس کا مقصد برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔

تاہم دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن پر بھارت کے لیے روانگی کے وقت پارٹی گیٹ کے بحران سے ’بھاگنے‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس دورے کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے کچھ بھی اہم حاصل نہیں ہوگا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں یہ کہتے ہوئے اس دورے پر جھپٹ پڑی ہیں کہ اس دورے کے دوران بریگزٹ کے بعد کسی تجارتی معاہدے پر اتفاق کا امکان نہیں اور وزیراعظم کے ساتھ یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے سے ہندوستان کے انکار پر تصادم سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم جانسن اپنے دورہ بھارت کا استعمال دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے کریں گے۔ ان کی کوشش ہے کہ برطانوی تاجروں کے لیے کاروباری رکاوٹیں کم ہو جائیں تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں اور ترقی ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "آج برطانیہ اور بھارتی کاروبار سافٹ ویئر اور انجینئرنگ سے لے کر صحت تک کے شعبوں میں ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی نئی سرمایہ کاری اور برآمدی سودوں کی تصدیق کریں گے۔ اس سے برطانیہ میں تقریباً 11,000 نئے روزگار پیدا ہوں گے۔"

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا، "آج جبکہ میں بھارت پہنچ رہا ہوں، مجھے وہ وسیع امکانات نظر آ رہے ہیں جو ہمارے دونوں عظیم ملک مل کر حاصل کر سکتے ہیں۔ فائیو جی اور ٹیلی کام سے لے کر صحت میں تحقیق اور قابل تجدید توانائی میں نئی شراکت داریوں تک برطانیہ اور بھارت دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ہماری یہ طاقتور پارٹنرشپ، ہمارے لوگوں کے لیے ملازمتیں، ترقی اور مواقع فراہم کر رہی ہے، اور یہ آنے والے سالوں میں مزید مضبوط ہوتی جائے گی۔"

اطلاعات کے مطابق بورس جانسن جمعرات کو احمد آباد میں پہلے گجرات کے معروف تاجروں سے ملاقات کریں گے جس میں اڈانی گروپ کے گوتم اڈانی کا نام سر فہرست ہے۔ وہ اس وقت بھارت کی امیر ترین شخصیت ہیں اور دنیا کے چند امیر ترین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اڈانی گروپ کا اصل دفتر احمد آباد میں ہی واقع ہے۔

22 اپریل جمعے کے روز برطانوی وزیر اعظم نئی دہلی میں ہوں گے جہاں ان کی ملاقات بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ہونی ہے۔ اس موقع پر کئی گھریلو اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کی توقع ہے۔ خاص طور پر یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں، بھارت نے جو موقف اپنایا ہے اس پر مغربی ممالک کو تشویش لاحق ہے۔

بورس جانسن دارالحکومت دہلی کے بجائے جمعرات کی صبح گجرات کی ریاست احمد آباد میں اترے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ہوٹل پہنچنے کے بعد انہوں نے سابرمتی میں واقع مہاتما گاندھی کے آشرم کا دورہ کیا اور وہاں چرخہ کاتنے کی بھی کوشش کی۔

اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم نے گاندھی جی کی تعریف میں کہا، "اس غیر معمولی آدمی کے آشرم میں آنا، اور یہ سمجھنا کہ اس شخص نے سچائی اور عدم تشدد کے اتنے سادہ اصولوں کو دنیا کو بہتر بنانے کے لیے کیسے استعمال کیا، واقعی ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں