عمان کی سفارتی کوششوں سے یمن میں قید 14 غیرملکیوں کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی سلطنت عمان نے یمن میں قید 14 غیر ملکیوں کو اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے رہا کروا کر انھیں اتوار کے روز یمنی دارالحکومت صنعاء سے مسقط منتقل کر دیا ہے۔

عُمان کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ رہائی پانے والے غیر ملکیوں میں ایک برطانوی شہری، اس کی بیوی اور بچہ، سات بھارتی شہری، ایک فلپائنی، ایک انڈونیشی، ایک ایتھوپیائی اور میانمار کا ایک شہری شامل ہیں۔

وزارت نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "سلطنت نے یمن میں برطانوی، انڈونیشی، ہندوستانی اور فلپائنی شہریوں کو رہا کرنے کے لیے صنعاء میں متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کیا اور ضروری اجازت ناموں کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب سے بات چیت کے بعد ان کی رہائی ممکن بنائی۔

وزارت نے مزید کہا کہ رہائی پانے والوں کو ان کے ملکوں میں واپسی کی تیاری کے لیے عمان کی رائل ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے طیارے میں صنعا سے مسقط منتقل کیا گیا۔

دوسری طرف برطانوی وزیر خارجہ نے شہریوں کی رہائی پر سعودی عرب اور عمان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک برطانوی کی رہائی کو یقینی بنایا جسے 2017 میں حوثیوں نے حراست میں لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی گرفتاری

ایک ہفتہ قبل اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارٹن گریفتھس نے کہا تھا کہ حوثی کئی مہینوں سے اقوام متحدہ کے دو ملازمین کو گرفتار کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے ہاتھوں اقوام متحدہ کے ملازمین کی گرفتاری کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔

بین الاقوامی جنگ بندی

موجودہ پیش رفت اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی کی روشنی میں ہوئی ہے۔ یہ جنگ بندی دو ماہ کے لیے کی گئی ہے جس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔اس دوران تمام متحارب فریقین سے فوجی کارروائیوں کو روکنا، صنعاء ہوائی اڈے کو دوبارہ آپریشنل کرنے کے علاوہ حدیدہ کی بندرگاہ میں تیل کے بحری جہازوں کو داخلے کی اجازت دینا شامل ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں