اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جمعرات کو جنگ زدہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو’’روکنے اور ختم‘‘کرنے کے لیے درکار کافی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گوٹیرس نے کیف میں یوکرینی صدرولودی میرزیلنسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا:’’مجھے واضح طور پربتانا چاہیے کہ سلامتی کونسل اس جنگ کوروکنے اورختم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے میں ناکام رہی اوریہ انتہائی مایوسی اور غصے کا باعث ہے‘‘۔
گوٹیرس نے یوکرین کے دارالحکومت کے آس پاس کے قصبوں کا دورہ کیا جو شہریوں کے خلاف روسی فوج کے مظالم کے دوران میں تباہ ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یوکرین ناقابل برداشت دل کے درد اور درد کا مرکز ہے۔ میں نے آج کیف کے اردگرد اس کا بہت واضح مشاہدہ کیا۔بے پایاں جانی نقصان، بڑے پیمانے پر تباہی، انسانی حقوق اور جنگ کے قوانین کی ناقابل قبول خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اقوام متحدہ کے دیگر میکانزم اپنا کام انجام دیں تاکہ (ذمے داروں سے)حقیقی جواب دہی ہو سکے۔
انھوں نے مزید کہا:’’اقوام متحدہ کا مؤقف واضح ہے:جیسا کہ میں نے ماسکو میں کہا، یوکرین پر روس کا حملہ اس کی علاقائی سالمیت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہےاور میں یہاں اس بات پر توجہ مرکوز کرنے آیا ہوں کہ اقوام متحدہ کس طرح یوکرین کے عوام کی حمایت میں توسیع کرسکتا ہے،ان کی جانیں بچا سکتا ہے، مصائب کو کم کر سکتا ہے اور امن کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے‘‘۔
گوٹیرس چند روز قبل ماسکو میں تھے جہاں انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین اور وزیرخارجہ سرگئی لافروف سے ملاقات کی تھی اوران سے کشیدگی میں کمی اور یوکرین کے خلاف جنگ کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔